فیصل آباد۔ 12 جون (اے پی پی):محکمہ زراعت نے دھا ن کے کاشتکاروں کو فی ایکڑ بہتر پیداوار کے حصول کیلئے محکمانہ سفارشات پر عملدر آمد کی ہدایت کی ہے۔ رائس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ محکمہ زراعت فیصل آباد کے ترجمان نے کہا ہے کہ کاشتکار دھا ن کے کھیتوں سے جڑی بوٹیوں کی تلفی پر خصوصی توجہ مرکوز کریں کیونکہ جڑی بوٹیاں تلف کرنے سے پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ …
فیصل آباد،محکمہ زراعت کی دھا ن کے کاشتکاروں کو محکمانہ سفارشات پر عمل درآمد کی ہدایت

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 12 جون (اے پی پی):محکمہ زراعت نے دھا ن کے کاشتکاروں کو فی ایکڑ بہتر پیداوار کے حصول کیلئے محکمانہ سفارشات پر عملدر آمد کی ہدایت کی ہے۔ رائس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ محکمہ زراعت فیصل آباد کے ترجمان نے کہا ہے کہ کاشتکار دھا ن کے کھیتوں سے جڑی بوٹیوں کی تلفی پر خصوصی توجہ مرکوز کریں کیونکہ جڑی بوٹیاں تلف کرنے سے پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ اور آبپاشی و کھادوں کے اخراجات میں بھی کمی لائی جا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب کاشتکار دھان کی لاب کھیتوں میں منتقل کردیں تو اس کے تین سے پانچ دن کے اندر اندر جڑی بوٹی مار زہر کا استعمال بھی کرناچاہیے۔انہوں نے کہا کہ زہر ڈالنے کے بعد اس بات کا بھی خاص خیال رکھا جائے کہ ایک ہفتہ بعد تک دھان کے کھیت سے پانی خشک نہ ہو کیونکہ پانی کی خشکی کے باعث ایک طرف زہریں مؤثر انداز میں اپنا اثر دکھانے سے قاصر رہتی ہیں جبکہ دوسری جانب فصل کو بھی سوکھنے اور نقصان کے خدشات لاحق رہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کاشتکار زنک کی کمی دور کرنے کے لئے محکمے کی مشاورت سے مؤثر کھادوں کا استعمال کریں تاکہ فصل کی بہتر پیداوار حاصل ہو سکے۔انہوں نے بتا یاکہ جو کاشتکار پنیری میں زنک سلفیٹ کا استعمال کر چکے ہیں انہیں لاب کی کھیتوں میں منتقلی کے بعد زنک کی ضرورت نہیں۔انہوں نے بتا یا کہ اس ضمن میں محکمہ زراعت کی فری ہیلپ لائن 15000 ۔0800 سے بھی استفادہ کیا جا سکتا ہے۔








