اسلام آباد ۔ 10 جولائی (اے پی پی) وفاقی کابینہ کے ارکان نے پانامہ دستاویزات کیس میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ کو عمران نامہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیاہے ‘وفاقی وزاءنے واضح کیا ہے کہ ہم بھرپور عدالتی جنگ لڑتے ہوئے جے آئی ٹی کی رپورٹ کے تمام نکات کو بے نقاب کرکے انھیں ملیا میٹ کر دیں گے ‘جے آئی ٹی رپورٹ میں "سورس …
وفاقی وزراءاحسن اقبال ،خواجہ آصف ،شاہد خاقان عباسی اور وزیراعظم کے معاون خصوصی بیرسٹر ظفراللہ کا مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 10 جولائی (اے پی پی) وفاقی کابینہ کے ارکان نے پانامہ دستاویزات کیس میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ کو عمران نامہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیاہے ‘وفاقی وزاءنے واضح کیا ہے کہ ہم بھرپور عدالتی جنگ لڑتے ہوئے جے آئی ٹی کی رپورٹ کے تمام نکات کو بے نقاب کرکے انھیں ملیا میٹ کر دیں گے ‘جے آئی ٹی رپورٹ میں "سورس رپورٹ ” اور ڈرافٹس کا سہارا لیا گیا جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے‘اب بھی اعلی عدلیہ سے امید ہے کہ وہ ہمارے ساتھ قانون اور آئین کے مطابق سلوک کریگی ‘جے آئی ٹی کی پوری رپورٹ میں کوئی حقیقت نہیں ہے ‘ہمیں جے آئی ٹی سے یہ ہی توقع تھی‘ ہر شخص کے بارے میں ایک جملہ مشترک تھا کہ اثاثے آمدن سے کہیںزیادہ ہیں ‘جے آئی ٹی کی رپورٹ میں کہیں بھی وزیراعظم کے خلاف ریفرنس بھیجنے کا ذکر نہیں ‘حسین نواز اورحسن نواز پاکستان میں نہیں رہتے اس لئے نیب سمیت کہیں بھی انکے خلاف کوئی ریفرنس دائر نہیں ہوسکتا ‘نواز شریف اور انکی فیملی کے خلاف الزامات میں چستیاں اور عمران خان کی آف شور کمپنیوں ‘غیر ملکی فنڈنگ میں سستیوں کو عوام دیکھ رہے ہیں ‘سعد رفیق ‘آصف کرمانی، طلال چوہدری اور دانیال عزیزکی تقاریر میں جے آئی ٹی کو دھمکیاں دینی نظر آگئی ہیں ‘کیا عمران خان کی جے آئی ٹی اور اعلی عدلیہ کو دھمکیاں پھولوں کے ہار ہیں ۔انہوں نے کہا کہ 2013میں عوامی مینڈیٹ سے بننے والی حکومت کی راہ میں بار بار رکاوٹیں ‘غیر آئینی اور غیر قانونی طریقے سے اثر انداز ہونا سازش نہیں توپھر کیا ہے‘جے آئی ٹی کی رپورٹ میں کسی بھی جگہ حکومت اور وزیراعظم محمد نواز شریف کے خلاف مالی بدعنوانی ‘ سرکاری وسائل کے ناجائز استعمال یا ٹیکس کی رقم میں خوردبرد یا بطور وزیراعظم اپنی اتھارٹی کو غلط استعمال کرنے کا ذکر نہیں ہے ۔ان خیالات کا اظہار وفاقی وزراءاحسن اقبال ،خواجہ آصف ،شاہد خاقان عباسی اور وزیراعظم کے معاون خصوصی بیرسٹر ظفراللہ نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔








