اسلام آباد۔16جولائی (اے پی پی):برطانیہ نے پاکستان کو اپنی ایئر سیفٹی لسٹ سے باضابطہ طور پر نکال دیا ہے جس سے پاکستانی فضائی کمپنیوں کی برطانیہ کیلئے پروازوں پر چار سال سے عائد پابندی ختم ہو گئی ہے۔یہ تاریخی فیصلہ پاکستان اور برطانیہ کے مابین کئی سالہ تکنیکی تعاون کا نتیجہ ہے جس کے تحت برطانوی ایئر سیفٹی کمیٹی نے یہ تسلیم کیا کہ پاکستان نے بین الاقوامی فضائی تحفظ …
برطانیہ نے پاکستانی فضائی کمپنیوں پر عائد پابندی ختم کر دی، پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر کا خیر مقدم

مزید خبریں
اسلام آباد۔16جولائی (اے پی پی):برطانیہ نے پاکستان کو اپنی ایئر سیفٹی لسٹ سے باضابطہ طور پر نکال دیا ہے جس سے پاکستانی فضائی کمپنیوں کی برطانیہ کیلئے پروازوں پر چار سال سے عائد پابندی ختم ہو گئی ہے۔یہ تاریخی فیصلہ پاکستان اور برطانیہ کے مابین کئی سالہ تکنیکی تعاون کا نتیجہ ہے جس کے تحت برطانوی ایئر سیفٹی کمیٹی نے یہ تسلیم کیا کہ پاکستان نے بین الاقوامی فضائی تحفظ کے معیارات پر کامیابی سے عملدرآمد کیا ہے، اب پاکستانی فضائی کمپنیاں یو کے سول ایوی ایشن اتھارٹی سے آپریٹنگ پرمٹ حاصل کرنے کیلئے درخواست دے سکتی ہیں جو براہ راست پروازوں کی بحالی کی جانب پہلا قدم ہوگا۔
پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہاکہ میں برطانیہ اور پاکستان کے ہوابازی کے ماہرین کی شکر گزار ہوں جنہوں نے بین الاقوامی حفاظتی معیار پر پورا اترنے کے لیے ملکر کام کیا، اگرچہ پروازوں کی بحالی میں کچھ وقت لگے گا لیکن جیسے ہی تمام انتظامات مکمل ہوں گے، مجھے خوشی ہو گی کہ میں اپنے خاندان اور دوستوں سے ملنے جانے کیلئے پاکستانی ایئرلائن کی پرواز استعمال کر سکوں گی۔
برطانیہ کی ایئر سیفٹی کمیٹی نے 2021 میں پاکستان کو اپنی فہرست میں شامل کیا تھا تاہم پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی سے مسلسل روابط اور اصلاحاتی اقدامات کے باعث فلائٹ سیفٹی پروٹوکولز میں بہتری آئی جس کے نتیجے میں اب یہ پابندی ہٹا لی گئی ہے۔یہ پیشرفت نہ صرف 16 لاکھ سےزیادہ برٹش پاکستانیوں اور پاکستان میں موجود ہزاروں برطانوی شہریوں کے لئے باعث راحت ہے بلکہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان 4.7 ارب پاؤنڈ کی دو طرفہ تجارت میں بہتری کا بھی پیش خیمہ بن سکتی ہے،فضائی راستے دوبارہ کھلنے سے دونوں ممالک کے درمیان عوامی روابط اور اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے کی راہیں ہموار ہوئی ہیں۔








