اسلام آباد۔16جولائی (اے پی پی):وزارتِ مذہبی امور وبین المذاہب ہم آہنگی کے ترجمان نے بدھ کو وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ زیارت مینجمنٹ پالیسی کے حوالے سے وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف کی منگل کوہونے والی پریس کانفرنس کے ضمن میں یہ وضاحت کی جاتی ہے کہ ایران ، عراق اور شام کے مقدس مقامات کی زیارات کئی دہائیوں سے نجی قافلہ سالاروں کے ذریعے عمل میں …
وزارتِ مذہبی امور وبین المذاہب ہم آہنگی کے ترجمان کا وضاحتی بیان

مزید خبریں
اسلام آباد۔16جولائی (اے پی پی):وزارتِ مذہبی امور وبین المذاہب ہم آہنگی کے ترجمان نے بدھ کو وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ زیارت مینجمنٹ پالیسی کے حوالے سے وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف کی منگل کوہونے والی پریس کانفرنس کے ضمن میں یہ وضاحت کی جاتی ہے کہ ایران ، عراق اور شام کے مقدس مقامات کی زیارات کئی دہائیوں سے نجی قافلہ سالاروں کے ذریعے عمل میں لائی جا رہی تھیں ، اس نظام میں زائرین کی تعداد ، آمد ورفت کا شیڈول اور زیارات مکمل کرنے کے بعد وطن واپسی کے مربوط اعداد و شمار نہ ہونے کے باعث میزبان ممالک اور متعلقہ اداروں کی جانب سے مختلف خدشات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے
جس کا ذکر وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے اپنی پریس کانفرنس میں کیا تھا تاہم ماضی میں واپس نہ آنے والے ایسے افراد کی حتمی تعداد اور ٹائم پیریڈ کا تعین پرانے سسٹم کے تحت ممکن نہیں ،صرف ایک اندازہ لگایا جا سکتا ہے، اسی وجہ سے وفاقی کابینہ سے منظور شدہ زیارت مینجمنٹ پالیسی کے تحت زائرین گروپ آرگنائزر (ZGOs) کی رجسٹریشن کا عمل شروع کیا گیا ہے جس کے ذریعے جلد ہی موجودہ نجی قافلہ سالاروں کا نظام تبدیل ہو جائے گا
اور تمام زیارات وزارتِ مذہبی امور سے رجسٹرڈ شدہ زائرین گروپ آرگنائزر (ZGOs )کے ذریعے ایک مربوط نظام کے تحت عمل میں لائی جائیں گی۔ نیز مقدس زیارات کی آڑ میں طے شدہ شیڈول سے ہٹ کر میزبان ممالک میں غیر قانونی قیام یا مبینہ طور پر دیگر ہمسایہ ممالک میں جانے کی کوششوں کا تدارک ممکن ہو گا۔








