بنگلہ دیشی تعلیمی وفد کا دورہ پاکستان مکمل، 20 سے زائد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

اسلام آباد۔20جولائی (اے پی پی):بنگلہ دیش کے ایک اعلیٰ سطحی تعلیمی وفد نے پاکستان کا ایک ہفتہ پر مشتمل طویل دورہ کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا جس کے نتیجے میں پاکستان کی معروف یونیورسٹیوں اور صنعتی شراکت داروں کے ساتھ مفاہمت کی 20 سے زائد یادداشتوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان علمی اور تحقیقی تعاون کو مضبوط بنانے میں ایک اہم قدم ہے۔ بنگلہ …

اسلام آباد۔20جولائی (اے پی پی):بنگلہ دیش کے ایک اعلیٰ سطحی تعلیمی وفد نے پاکستان کا ایک ہفتہ پر مشتمل طویل دورہ کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا جس کے نتیجے میں پاکستان کی معروف یونیورسٹیوں اور صنعتی شراکت داروں کے ساتھ مفاہمت کی 20 سے زائد یادداشتوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان علمی اور تحقیقی تعاون کو مضبوط بنانے میں ایک اہم قدم ہے۔

بنگلہ دیش کی ممتاز یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز اور سینئر حکام پر مشتمل سات رکنی وفد نے او آئی سی کی وزارتی قائمہ کمیٹی برائے سائنسی اور تکنیکی تعاون (کامسٹیک)کی دعوت پر پاکستان کا دورہ کیا۔اپنے قیام کے دوران وفد نے لاہور، اسلام آباد اور مری کے معروف تعلیمی اداروں کا دورہ کیا جن میں کامسٹیک کنسورشیم آف ایکسی لینس (CCoE) کی ممبر یونیورسٹیاں بھی شامل تھیں۔پاکستان کی 20 اعلیٰ یونیورسٹیوں کے ساتھ دستخط کیے گئے مفاہمت کی یادداشتوں میں تعاون کے وسیع شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہےجن میں فیکلٹی اور طلبہ کے تبادلے کے پروگرام، مشترکہ تحقیقی منصوبے، تعلیمی شراکت داری، بنیادی ڈھانچے کا اشتراک، کانفرنسوں کی شریک میزبانی اور پی ایچ ڈی کی فیس میں چھوٹ شامل ہیں۔

اس دورے کی ایک قابل ذکر بات گورمیٹ فوڈز کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کرنا تھا جو بنگلہ دیشی طلباء کو صنعتی انٹرن شپ کی پیشکش کرے گا۔ اس اقدام کا مقصد عملی مہارتوں کی نشوونما کو بڑھانا اور اکادمی اور صنعت کے مضبوط روابط کو فروغ دینا ہے۔وفد کی متعدد استقبالیوں میں پرتپاک میزبانی کی گئی جن میں ڈاکٹر چوہدری عبدالرحمٰن، ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹیز آف پاکستان کے چیئرمین کی طرف سے منعقد کردہ استقبالیہ، پاکستان میں بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر محمد اقبال حسین خان اور پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل بھی شامل تھے۔

ان مصروفیات نے وفد کو گہری ادارہ جاتی شراکت داری اور باہمی ترقی کے مواقع تلاش کرنے کا موقع دیا۔اپنے دورے کے اختتام پر بنگلہ دیشی مندوبین نے اپنے پاکستانی ہم منصبوں کی مہمان نوازی اور مستقبل کی سوچ کی تعریف کرتے ہوئے اس دورے کو ’’تاریخی اور انتہائی نتیجہ خیز‘‘ قرار دیا۔انہوں نے دورے میں کامسٹیک کی گہری تعریف کا اظہار کیا اور بنگلہ دیشی طلباء کے لیے 100 اسکالرشپس کے اعلان کا خیرمقدم کیا جو کامسٹیک اور یونیورسٹی آف لاہور کی طرف سے مشترکہ طور پر پیش کیے گئے تھے۔یہ تعلیمی مشن اور آئی سی کے رکن ممالک کے درمیان تعلیمی فضیلت اور سائنسی تعاون کو فروغ دینے کے لیے کامسٹیک کے جاری عزم کی عکاسی کرتا ہے۔یہ بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان تاریخی تعلیمی اور ثقافتی تعلقات کو بھی تقویت دیتا ہے جو کہ اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں مستقبل کے تعاون کی بنیاد رکھتا ہے۔