نیوزی لینڈ میں مہنگائی کی شرح 12 ماہ کی بلند ترین سطح 2.7 فیصد تک پہنچ گئی

ویلنگٹن۔21جولائی (اے پی پی):نیوزی لینڈ میں مہنگائی کی شرح 12 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے جس کی بنیادی وجہ کرایوں، بلدیاتی ٹیکسوں، بجلی اور خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں تاہم اس اضافے کے باوجود مہنگائی کی شرح ریزرو بینک کے مقرر کردہ ہدف کے دائرے میں ہی ہے اور امکان ہے کہ یہ آئندہ شرح سود میں مزید کمی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے …

ویلنگٹن۔21جولائی (اے پی پی):نیوزی لینڈ میں مہنگائی کی شرح 12 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے جس کی بنیادی وجہ کرایوں، بلدیاتی ٹیکسوں، بجلی اور خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں تاہم اس اضافے کے باوجود مہنگائی کی شرح ریزرو بینک کے مقرر کردہ ہدف کے دائرے میں ہی ہے اور امکان ہے کہ یہ آئندہ شرح سود میں مزید کمی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گی۔

اماراتی نیوز ایجنسی ’’وام‘‘ کی رپورٹ کے مطابق "اسٹیٹس این زیڈ” نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ جون میں ختم ہونے والی سہ ماہی میں صارفین کیلئے قیمتوں کے حساس اشاریہ میں 0.5 فیصد اضافہ ہوا جس سے سالانہ مہنگائی کی شرح بڑھ کر 2.7 فیصد ہو گئی جو گزشتہ سہ ماہی میں 2.5 فیصد تھی ، یہ شرح گزشتہ سال جون کے بعد سب سے زیادہ ہے۔

اسٹیٹس این زیڈ کی سینئر مینیجر پرائسز نیکولا گروڈن نے کہا کہ اگرچہ سالانہ مہنگائی کی شرح مارچ 2025 کی سہ ماہی کے مقابلے میں بڑھی ہے لیکن یہ اب بھی ریزرو بینک کے 1 سے 3 فیصد کے ہدف کے دائرے میں ہے اور یہ چوتھی مسلسل سہ ماہی ہے جس میں یہ اسی حد میں رہی ہے۔