کراچی ۔ 15 جولائی (اے پی پی) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ہم عدالت سے انصاف کی توقع رکھتے ہیں ، تحریک انصاف کی نہیں ،پاناما کیس کا کرپشن سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ سیاسی عدم استحکام پھیلانے کی سازش ہے،سیاستدانوں کے کھیلنے کے مواقع معدوم ہوتے جارہے ہیں، پہلے آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی کو ہدف بنایا گیا،آج نواز …
پاناما کیس کا کرپشن سے کوئی تعلق نہیں ،عدالتوں سے انصاف کی توقع رکھتے ہیں ، سی پیک کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، مولانا فضل الرحمن

مزید خبریں
کراچی ۔ 15 جولائی (اے پی پی) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ہم عدالت سے انصاف کی توقع رکھتے ہیں ، تحریک انصاف کی نہیں ،پاناما کیس کا کرپشن سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ سیاسی عدم استحکام پھیلانے کی سازش ہے،سیاستدانوں کے کھیلنے کے مواقع معدوم ہوتے جارہے ہیں، پہلے آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی کو ہدف بنایا گیا،آج نواز شریف کو ہدف بنایاجارہاہے، اسے احتساب نہیں سیاسی مقاصد کہتے ہیں، میری کوئی رہنمائی نہیں کر رہا، مخالفین غور کریں کہ میں حکومت بچا رہا ہوں یا پورا ملک بچا رہا ہوں،سی پیک کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، بھارت اور امریکا نے ایک دوسرے سے ہاتھ ملا لیے ہیں،ان کا ہدف پاکستان اور چین ہیں ،کیا پاکستان ان حالات میں اس قسم کے بحران کا متحمل ہے۔،دینی جماعتوں کے اتحاد کے لیے ہم مسلسل رابطوں میں ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے ہفتہ کو جمعیت علماءپاکستان کے سیکرٹری جنرل شاہ اویس نورانی کے ہمراہ ان کی رہائش گاہ پرپریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ شاہ اویس نورانی کا گھر میرا اپنا گھر ہے ۔ یہاں آکر پرانی یادیں تازہ ہوجاتی ہیں۔دینی جماعتوں کے اتحاد کے حوالے سے مشاورت ہوتی رہی ہے ۔ہم سمجھتے ہیں کی ملکی حالات میں دینی جماعتوں کا اتحاد ضروری ہے ۔ ہم نے ڈپٹی چیئرمین سینٹ مولانا عبدالغفور حیدری کی سربراہی میں دینی جماعتوں سے رابطے کیلئے ایک کمیٹی بنائی ہے ۔








