23 سے 30 اگست کے دوران پاکستان میں بیک وقت بارش کا سبب بننے والے تین نظام داخل ہوں گے،این ڈی ایم اے کا الرٹ

اسلام آباد۔23اگست (اے پی پی):نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے ترجمان نے ہفتہ کے روز شہریوں اور متعلقہ حکام کو مشورہ دیا ہے کہ 23 اگست سے 30 اگست کے دوران پاکستان میں بیک وقت بارش کا سبب بننے والے تین نظام داخل ہوں گے۔این ڈی ایم اے تکنیکی ٹیم کے سربراہ اور ترجمان نے اپنے ایک انٹر ویو میں کہا کہ بارش کے ممکنہ اثرات کے …

اسلام آباد۔23اگست (اے پی پی):نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے ترجمان نے ہفتہ کے روز شہریوں اور متعلقہ حکام کو مشورہ دیا ہے کہ 23 اگست سے 30 اگست کے دوران پاکستان میں بیک وقت بارش کا سبب بننے والے تین نظام داخل ہوں گے۔این ڈی ایم اے تکنیکی ٹیم کے سربراہ اور ترجمان نے اپنے ایک انٹر ویو میں کہا کہ بارش کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے وارننگ جاری کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان سسٹمز سے پاکستان بھر میں شدید بارشیں متوقع ہیں جس سے غیر محفوظ علاقوں میں شہری سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔

ڈاکٹر طیب شاہ نے اس بات پر زور دیا کہ یہ موسمی حالات عوامی تحفظ اور بنیادی ڈھانچے کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتے ہیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ ہائی الرٹ رہیں اور متوقع بارشوں اور اس سے منسلک خطرات سے ممکنہ نقصان کو کم کرنے کے لیے ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ این ڈی ایم اے نے خاص طور پر اسلام آباد، پنجاب، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کے نشیبی علاقوں میں ممکنہ سیلاب کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ متوقع موسلادھار بارشوں کی وجہ سے یہ علاقے زیادہ خطرے میں ہیں۔

انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ مری، گلیات، کشمیر اور گلگت بلتستان جیسے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے زیادہ امکانات ہیں۔ ان علاقوں میں حکام پر زور دیا گیا ہے کہ وہ جان و مال کے تحفظ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سندھ اور بلوچستان کے متعدد اضلاع میں 27 سے 30 اگست کے درمیان موسلادھار بارش کا امکان ہے جس کی ماہرین موسمیات نے پیش گوئی کی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ان عکاقوں کے حکام کو موسم کی صورتحال سے پیدا ہونے والے ممکنہ مسائل کے لیے تیار رہنا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ این ڈی ایم اے کی ایڈوائزری کے مطابق تونسہ، گدو اور کالاباغ میں دریا کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ متوقع ہے جس سے قریبی بستیوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہائی الرٹ رہنے اور کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری کارروائی کرنے کی تاکید کی ہے۔دریں اثنا، خیبرپختونخوا کے اضلاع بشمول چترال، سوات، شانگلہ، بونیر، ایبٹ آباد، نوشہرہ، چارسدہ اور صوابی میں مقامی ندی نالوں میں ممکنہ سیلاب کی وارننگ جاری کردی گئی ہے۔