مزاحیہ اداکارجمشید انصاری کی برسی منائی گئی

اسلام آباد۔24اگست (اے پی پی):ٹیلی ویژن اور فلم کے مزاحیہ اداکارجمشید انصاری کی برسی اتوار 24 اگست کو منائی گئی۔ وہ31 دسمبر 1942 کو سہارن پور ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان پاکستان منتقل ہو گیا۔ گریجویشن کے بعد وہ لندن چلے گئے جہاں انھوں نے کچھ عرصہ بی بی سی میں کام کیا اور ٹی وی پروڈکشن کے سرٹیفیکیٹ کورس کیے۔ لندن میں قیام …

اسلام آباد۔24اگست (اے پی پی):ٹیلی ویژن اور فلم کے مزاحیہ اداکارجمشید انصاری کی برسی اتوار 24 اگست کو منائی گئی۔ وہ31 دسمبر 1942 کو سہارن پور ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان پاکستان منتقل ہو گیا۔ گریجویشن کے بعد وہ لندن چلے گئے جہاں انھوں نے کچھ عرصہ بی بی سی میں کام کیا اور ٹی وی پروڈکشن کے سرٹیفیکیٹ کورس کیے۔

لندن میں قیام کے دوران انھوں نے شوکت تھانوی کے لکھے ہوئے ڈرامے ’ سنتا نہیں ہوں بات‘ پیش کیا۔ جمشید انصاری 1968 میں واپس پاکستان آئے اور پی ٹی وی میں کام کا آغاز کیا ۔ انھوں نے اپنے کریئر کا آغاز ڈراما ’ جھروکے‘ سے کیا۔ جمشید انصاری نے درجنوں ٹی وی ڈراموں میں کام کیا۔ ان کے شہرہ آفاق ڈراموں میں گھوڑا گھاس کھاتا ہے، کرن کہانی، انکل عرفی، ان کہی، تنہائیاں، زیر زبر پیش، شوشہ وغیرہ شامل ہیں۔

انھوں نے دو درجن کے قریب قومی سطح کے فن کے ایوارڈ بھی حاصل کیے۔ ان کے کچھ مکالمے ’چقو ہے میرے پاس‘ ’ زور کس پے ہوا‘ اور’قطعی نہیں‘ وغیرہ عام لوگوں میں بہت زیادہ مقبول ہوئے۔ جمشید انصاری 24 اگست 2005 کو کراچی میں انتقال کر گئے۔ ان کی برسی کے موقع پر شو بز انڈسٹری اور فنکار برادری کی جانب سے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں خراج تحسین پیش کیا گیا۔