بیجنگ میں 4 ارب ڈالر کے زرعی معاہدے، وفاقی وزیر کی چینی کمپنیوں سے ملاقاتیں، پاکستان کی زرعی برآمدات کو چین کی 215 ارب ڈالر کی درآمدی منڈی میں شامل کرنے کی پیشکش

بیجنگ۔6ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے بیجنگ میں پاک۔چین بزنس ٹو بزنس سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت کی اور زرعی شعبے میں 4 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے دو درجن سے زیادہ مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کیے گئے۔وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے ہفتہ کو یہاں جاری اعلامیہ کے مطابق یہ ایک روزہ کانفرنس …

بیجنگ۔6ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے بیجنگ میں پاک۔چین بزنس ٹو بزنس سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت کی اور زرعی شعبے میں 4 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے دو درجن سے زیادہ مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کیے گئے۔وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے ہفتہ کو یہاں جاری اعلامیہ کے مطابق یہ ایک روزہ کانفرنس وزیرِاعظم کے دورہ چین کے موقع پر منعقد ہوئی جس میں افتتاحی اور اختتامی اجلاس کے علاوہ متعدد بزنس ٹو بزنس سیشنز بھی شامل تھے۔

وفاقی وزیر نے اس موقع پر درجن بھر ملاقاتیں کیں جن میں چین اور پاکستان کی نمایاں زرعی کمپنیوں نے شرکت کی جن میں جی ڈی ایس پی ڈایو، جی ڈی ایس پی جیسیکا ای وی، جی ڈی ایس پی پی ای ایس اے ٹی، جی ڈی ایس پی لوول، سانگیانگ کمپنی شِن جیانگ، جِنگ ہوا سیڈ انڈسٹری کمپنی لمیٹڈ، گارڈ ایگریکلچرل ریسرچ اینڈ سروسز پرائیویٹ لمیٹڈ اور چائنا اسٹیٹ انجینئرنگ کنسٹرکشن کارپوریشن جی ڈی ایس پی سمیت دیگر شامل تھیں۔وفاقی وزیر نے ملاقاتوں کے دوران چینی کمپنیوں کو پاکستان کے زرعی شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دی، خصوصاً زرعی مشینری، بیجوں کی تیاری، سمارٹ ایگریکلچر اور پریسیژن ایگریکلچر میں جس سے ڈیٹا پر مبنی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات پاکستان کی غذائی تحفظ کو مضبوط بنانے اور پاک۔چین تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے ضروری ہیں۔رانا تنویر حسین نے واضح کیا کہ چین کی سالانہ 215 ارب ڈالر کی زرعی درآمدات میں پاکستان نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے۔ پاکستان نہ صرف اُشنائی (tropical) اور معتدل (temperate) خطوں کے پھل و سبزیاں بلکہ اناج کی فصلیں بھی چین کو فراہم کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان، جو چین کا قریبی ہمسایہ اور برادر ملک ہے، زرعی اجناس کم قیمت پر فراہم کر سکتا ہے جبکہ چین کی برآمدات کا بڑا حصہ برازیل اور مغربی ممالک سے مہنگے داموں آتا ہے۔وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے وزیرِاعظم شہباز شریف کی قیادت میں زرعی صنعتوں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان چین کے ساتھ زرعی شعبے میں طویل مدتی شراکت داری کے لیے پُرعزم ہے۔