ملکہ ترنم نور جہاں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا

اسلام آباد۔21ستمبر (اے پی پی):ملکہ ترنم نور جہاں کے 99ویں یوم پیدائش کے موقع پر ملک بھر کے الیکٹرانک، ریڈیو اور پرنٹ میڈیا نے اُنہیں بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر اُن کے یادگار گیت، نایاب ویڈیوز اور آرکائیو فوٹیج نشر کی گئی، جس سے ان کے مداحوں کو ماضی کی حسین یادوں میں لے جایا گیا۔ نور جہاں 21 ستمبر 1926 کو قصور، پنجاب میں پیدا ہوئیں۔ …

اسلام آباد۔21ستمبر (اے پی پی):ملکہ ترنم نور جہاں کے 99ویں یوم پیدائش کے موقع پر ملک بھر کے الیکٹرانک، ریڈیو اور پرنٹ میڈیا نے اُنہیں بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر اُن کے یادگار گیت، نایاب ویڈیوز اور آرکائیو فوٹیج نشر کی گئی، جس سے ان کے مداحوں کو ماضی کی حسین یادوں میں لے جایا گیا۔ نور جہاں 21 ستمبر 1926 کو قصور، پنجاب میں پیدا ہوئیں۔ اُنہوں نے فنی سفر کا آغاز 1935 میں فلم "پنڈ دی کڑیاں” سے کیا۔ اس کے بعد وہ پاکستانی فلم اور موسیقی کی دنیا کی ایک بے مثال شخصیت بن گئیں۔

انہوں نے اردو، پنجابی اور سندھی سمیت مختلف زبانوں میں 10,000 سے زائد گیت ریکارڈ کروائے۔ نور جہاں نہ صرف ایک عظیم گلوکارہ تھیں بلکہ ایک باصلاحیت اداکارہ بھی تھیں۔ ان کی مشہور فلموں میں "چن وے”، "دوپٹہ”، "مرزا غالب”، "قیدی”، "باجی” اور "خاندان” شامل ہیں۔ ان کے فن نے نہ صرف پاکستان بلکہ برصغیر بھر میں سامعین کے دل جیتے۔1965 کی پاک-بھارت جنگ کے دوران ان کے قومی نغمے قوم کے جذبے کو جِلا بخشنے کا ذریعہ بنے۔

اُن کی آواز نے محاذ پر لڑنے والے سپاہیوں اور عوام دونوں کا حوصلہ بلند رکھا۔ حکومتِ پاکستان نے ان کی لازوال خدمات کے اعتراف میں انہیں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی، تمغۂ امتیاز اور ستارۂ امتیاز سے نوازا۔ وہ 23 دسمبر 2000 کو اس دنیا سے رخصت ہو گئیں، لیکن ان کی آواز آج بھی لاکھوں دلوں میں زندہ ہے۔ ملک کے مختلف ادبی و ثقافتی ادارے ہر سال ان کی سالگرہ کے موقع پر خصوصی تقاریب کا انعقاد کرتے ہیں، جہاں ان کے فن اور خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے۔