اقوام متحدہ ۔23ستمبر (اے پی پی):فرانس نے پیر کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں فلسطین کو باضابطہ طور پر ایک خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرلیا، جو کہ اسرائیل اور امریکا کی شدید مخالفت کے باوجود فرانس کا ایک تاریخی اور جرات مندانہ اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فرانس آج ریاستِ فلسطین …
اسرائیل اور امریکا کی مخالفت کے باوجود فرانس کا فلسطین تسلیم کرنے کا فیصلہ
اقوام متحدہ ۔23ستمبر (اے پی پی):فرانس نے پیر کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں فلسطین کو باضابطہ طور پر ایک خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرلیا، جو کہ اسرائیل اور امریکا کی شدید مخالفت کے باوجود فرانس کا ایک تاریخی اور جرات مندانہ اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فرانس آج ریاستِ فلسطین کو تسلیم کرتا ہے۔
اس موقع پر 193 رکنی اسمبلی میں عالمی رہنماؤں اور اقوام متحدہ کے مندوبین نے کھڑے ہوکر اس اعلان کا خیر مقدم کیا۔فرانسیسی صدرنے اپنے خطاب میں غزہ میں اسرائیلی حملوں کے خاتمے، یرغمال بنائے گئے اسرائیلی شہریوں کی رہائی اور فلسطین و اسرائیل کے مابین دو ریاستی حل کی بحالی پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو تسلیم کرنا اسرائیلی عوام کے حقوق کو چیلنج نہیں کرتا بلکہ امن کی جانب ایک ناگزیر قدم ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے بھی اس موقع پر زور دیا کہ فلسطینی ریاست کا حق کوئی انعام نہیں بلکہ ان کا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کو اجتماعی سزا دینے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ مغربی کنارے میں جاری بستیوں کی توسیع، الحاق کی دھمکیاں اور آبادکاروں کے حملے دو ریاستی حل کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم نے دو ریاستی حل کی جانب فوری پیش رفت نہ کی، تو پورے خطے میں انتہا پسندی پھیلنے کا خدشہ ہے۔سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ان تمام ممالک کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے فلسطین کو تسلیم کیا، اور باقی دنیا پر زور دیا کہ وہ بھی اس تاریخی اقدام کی پیروی کریں تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن، استحکام اور خوشحالی ممکن ہو سکے۔
واضح رہے یہ اجلاس فرانس اور سعودی عرب کی مشترکہ میزبانی میں منعقد ہوا، جس سے ایک روز قبل برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور پرتگال سمیت کئی ممالک نے فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا، جب کہ رواں ہفتے مزید ممالک کی جانب سے ایسے اعلانات متوقع ہیں۔واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے اس اجلاس کا بائیکاٹ کیا، تاہم ایشیا، افریقہ اور جنوبی امریکا کی اکثریتی ریاستیں پہلے ہی فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکی ہیں، جب کہ حالیہ عرصے میں مغربی ممالک کی بڑی تعداد بھی اس فہرست میں شامل ہو رہی ہے۔









