تونس میں گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملوں میں اسرائیل کا ہاتھ ہے، امریکی مندوب ٹام براک کا اعتراف

دمشق۔24ستمبر (اے پی پی):امریکاکے شام کے لیے خصوصی ایلچی ٹام براک نے اعتراف کیا ہے کہ اسرائیل نے تونس میں اس امدادی بیڑے پر حملہ کیا تھاجو غزہ کی طرف روانہ تھا۔ سکائی نیوز کے مطابق اس بیڑے کی دو کشتیاں تونس کے دارالحکومت کے قریب سیدی بوسعید کی بندرگاہ پر لنگر انداز تھیں جب انہیں ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔امریکی ایلچی نے سکائی نیوز کو دیے گئے انٹرویو …

دمشق۔24ستمبر (اے پی پی):امریکاکے شام کے لیے خصوصی ایلچی ٹام براک نے اعتراف کیا ہے کہ اسرائیل نے تونس میں اس امدادی بیڑے پر حملہ کیا تھاجو غزہ کی طرف روانہ تھا۔ سکائی نیوز کے مطابق اس بیڑے کی دو کشتیاں تونس کے دارالحکومت کے قریب سیدی بوسعید کی بندرگاہ پر لنگر انداز تھیں جب انہیں ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔امریکی ایلچی نے سکائی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کہاکہ اسرائیل شام پر حملہ کرتا ہے، لبنان پر حملہ کرتا ہے اور تونس پر بھی حملہ کرتا ہے۔

اس جارحیت کے تسلسل کے باعث حزب اللہ کی دلیل مزید مضبوط ہو جاتی ہے۔یہ اعتراف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے دوحہ میں عرب اسلامی سربراہی اجلاس سے خطاب میں کہا تھا کہ اسرائیل کی جارحیت کئی ملکوں تک پھیل گئی ہے اور ان میں تونس بھی شامل ہے۔ادھر تونس کی حکومت نے اب تک اس معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے حالانکہ اندرون ملک دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ تحقیقات کے نتائج اور اس حملے کی منصوبہ بندی کرنے والی قوتوں اور ملوث فریقوں کو بے نقاب کرے۔

حکام نے صرف اتنا کہا ہے کہ یہ ایک منظم حملہ تھا۔یاد رہے کہ رواں ماہ کی نو تاریخ کو گلوبل صمود فلوٹیلا کی تنظیمی کمیٹی نے بتایا تھا کہ اس کی ایک کشتی پر نامعلوم ڈرون نے حملہ کیا جب وہ سیدی بوسعید کی بندرگاہ پر لنگر انداز تھی۔ اس سے ایک روز قبل بھی اسی قافلے کی ایک اور کشتی کو اسی نوعیت کے حملے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

مسلسل حملوں اور رکاوٹوں کے باوجود عالمی قافلہ برائے صمود، جس میں انسانی خدمت کے کارکن، ڈاکٹر، فنکار اور 44 ملکوں سے تعلق رکھنے والے کارکن شامل ہیں، گذشتہ ایک ہفتے سے تیونس سے غزہ کے لیے روانہ ہے۔ اس کا مقصد غزہ کے لیے ایک انسانی راستہ کھولنا اور محاصرے کو توڑنا ہے۔تاہم اسرائیل نےدھمکی دی کہ وہ ان کشتیوں کو غزہ پہنچنے سے روکے گا۔