کوئٹہ۔ 25 ستمبر (اے پی پی):ڈپٹی کمشنر سبی میجر (ر)الیاس کبزئی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ونگ کمانڈر 63 ونگ کرنل شہریار، ونگ کمانڈر 52 ونگ کرنل زبیر، ایس ایس پی سبی اختر نواز، اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ، اسسٹنٹ کمشنر بختیار آباد میر بہادر خان بنگلزئی سمیت مختلف محکموں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس …
ڈپٹی کمشنر سبی میجر (ر)الیاس کبزئی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 25 ستمبر (اے پی پی):ڈپٹی کمشنر سبی میجر (ر)الیاس کبزئی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ونگ کمانڈر 63 ونگ کرنل شہریار، ونگ کمانڈر 52 ونگ کرنل زبیر، ایس ایس پی سبی اختر نواز، اسسٹنٹ کمشنر سبی منصور علی شاہ، اسسٹنٹ کمشنر بختیار آباد میر بہادر خان بنگلزئی سمیت مختلف محکموں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سبی نے ہدایت کی کہ شہر کے تمام داخلی و خارجی راستوں پر کڑی نگرانی کی جائے اور آنے جانے والے افراد کا باقاعدہ اندراج کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ مشکوک سرگرمیوں پر نظر رکھی جائے اور کرایہ داروں کی مکمل جانچ پڑتال کی جائے۔ اگر کوئی شخص غیرقانونی سرگرمیوں کی سہولت کاری میں ملوث پایا گیا تو اس کا نام فورتھ شیڈول میں شامل کر کے اس کا شناختی کارڈ بلاک اور جائیداد ضبط کی جائے گی۔
ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ چونکہ موسم خوشگوار ہو رہا ہے، اس لیے خانہ بدوش اور دیگر افراد کی نقل مکانی میں اضافہ متوقع ہے، جن میں شرپسند عناصر بھی شامل ہو سکتے ہیں، لہٰذا اس حوالے سے محتاط رہنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے مدارس کی بروقت رجسٹریشن، افغان مہاجرین کے خلاف حکومتی احکامات پر سختی سے عمل درآمد اور ان کو کرایہ پر مکانات یا زمین دینے سے اجتناب کرنے کی ہدایت کی۔
اس سلسلے میں متعلقہ اداروں کو کہا گیا کہ اگر افغان مہاجرین یا جعلی شناختی کارڈز سے متعلق کوئی معلومات دستیاب ہوں تو فوری طور پر فراہم کی جائیں۔
مزید برآں، ڈپٹی کمشنر نے تمام محکموں کے سربراہان کو ہدایت کی کہ اپنے ملازمین کا ڈیٹا اسپیشل برانچ اور دیگر اداروں کو فراہم کریں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ کھلی کچہریوں میں منظور شدہ ترقیاتی منصوبوں پر آئندہ پیر سے عملی کام شروع کیا جائے گا، اور اگر کسی منصوبے میں رکاوٹ یا ناقص کام سامنے آیا تو اس کی اطلاع فوری طور پر دی جائے۔
انہوں نے سرکاری محکموں کو ہدایت دی کہ بجلی کے بقایہ جات فوری طور پر جمع کرائے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی کے نرخوں میں اضافے کے باوجود محکموں کا بجٹ پرانا ہے، لہٰذا اس حوالے سے ہیڈ آفسز کو بجلی کے بجٹ میں اضافے کے لیے مراسلہ بھی ارسال کیا جائے گا۔








