نیو یارک۔27ستمبر (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھارت کی جانب سے دہشت گردی کے حوالے سے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت خود ریاستی دہشت گردی کو پالیسی کے طور پر اندرون اور بیرون ملک استعمال کرتا ہے۔بھارتی مندوب پیٹل گہلوٹ کے الزامات پر اپنے حق جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت کی منافقت …
پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھارت کے الزامات کو مسترد کردیا، بھارت کی منافقت بے نقاب ہوچکی ، بھارت دہشت گردی کی مالی معاونت، خفیہ نیٹ ورکس اور جموں و کشمیر میں دہشت گردانہ اقدامات کو چھپا نہیں سکتا، پاکستانی سفارتکار

مزید خبریں
نیو یارک۔27ستمبر (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھارت کی جانب سے دہشت گردی کے حوالے سے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت خود ریاستی دہشت گردی کو پالیسی کے طور پر اندرون اور بیرون ملک استعمال کرتا ہے۔بھارتی مندوب پیٹل گہلوٹ کے الزامات پر اپنے حق جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت کی منافقت بے نقاب ہوچکی ہے، وہ اب پاکستان میں دہشت گردی کی مالی معاونت، اپنے خفیہ نیٹ ورکس اورجموں وکشمیر میں اپنے دہشت گردانہ اقدامات کو چھپا نہیں سکتا۔پاکستانی سفارتکار نے کہا کہ بھارت نے اپنی پراکسیز جیسے ٹی ٹی پی ، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کے ذریعے دہشت گردی سے نہ صرف ہزاروں بے گناہ پاکستانیوں کو شہید کیا بلکہ عبادت گاہوں، تعلیمی اداروں اور روزگار کے مراکز کو بھی خون ریزی کا نشانہ بنایا۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ پاکستان نے نہ صرف پہلگام واقعے کی مذمت کی بلکہ اس کی آزاد، غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ اگر بھارت کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہ ہوتا تو وہ ایسی تحقیقات پر راضی ہوجاتا۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ معطل کر کے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والا ملک ہے جو پانی کو ہتھیار بنا کر خطے کے امن کو خطرے میں ڈال رہا ہے اور لاکھوں انسانوں کو پانی کے حق سے محروم کر رہا ہے۔صائمہ سلیم نے کہا کہ آر ایس ایس اور بی جے پی کے زیر اثر بھارت میں مسلمانوں کو ان کے عقیدے پر قتل کیا جاتا ہے، عیسائیوں کو عبادت پر نشانہ بنایا جاتا ہے، سکھوں کو شناخت پر اور دلتوں کی ذات کی بنیاد پر تذلیل کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ دنیا گجرات کو نہیں بھولی جہاں ہزاروں مسلمانوں کو ریاستی سرپرستی میں قتل کیا گیا، دہلی کو نہیں بھولی جہاں پولیس تماشائی بنی رہی اور منی پور کو نہیں بھولی جہاں سینکڑوں افراد قتل اور ہزاروں بے گھر کیے گئے۔ بھارت کا ریکارڈ خون اور نفرت انگیز بیانیے سے بھرا ہوا ہے جس میں نسل کشی اور اسلاموفوبیا کو قانونی و سیاسی تحفظ دیا گیا ہے۔پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ بھارت اپنے ہمسایوں کو دھمکاتا ہے، خطے میں تعاون کو روکتا ہے، بیرون ملک ماورائے عدالت قتل کرتا ہے اور پراکسیز کو فنڈ کرتا ہے تاکہ خطے کو عدم استحکام کا شکار کرے، یہ ہے نیا بھارت، اندرون ملک اسلاموفوبیا اور بیرون ملک جارحیت، جس کے مرکز میں ہندوتوا نظریہ ہے۔
انہوں نے جموں و کشمیر کے حوالے سے کہا کہ یہ کبھی بھی بھارت کا حصہ نہیں رہا اور بھارت نے وہاں 9 لاکھ فوجیوں کو تعینات کر کے اسے دنیا کے سب سے بڑے فوجی چھائونی میں بدل دیا ہے، وہاں پر ظلم و جبر روز کا معمول ہے جن میں سخت قوانین، جعلی مقابلے، جبری گمشدگیاں، اجتماعی قبریں، ماورائے عدالت قتل، منظم جنسی تشدد اور میڈیا بلیک آؤٹ شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کی منافقت، جمو ں و کشمیر پر قبضے، انسانی حقوق کی پامالیوں اور اس کی جھوٹی پروپیگنڈا مہم کو دنیا کے سامنے لاتا رہے گا، کشمیری عوام کو انصاف، وقار اور آزادی ملے گی اور وہ ایک دن ضرور اپنے حق خودارادیت کے ذریعے آزادی حاصل کریں گے۔








