لاہور۔28ستمبر (اے پی پی):صدر پاکستان بزنس فورم لاہور ریجن ساجد عزیز میر نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستان کی بزنس کمیونٹی کو چاہیے کہ وہ کھربوں ڈالر کی تیزی سے فروغ پاتی عالمی حلال معیشت سے خود کو موثر انداز میں ہم آہنگ کرے، کیونکہ اس شعبے میں اس کے پاس بے پناہ صلاحیت اور ترقی کے مواقع موجود ہیں۔ اتوار کو یہاں ایک تقریب سے خطاب …
بزنس کمیونٹی کھربوں ڈالر کی تیزی سے فروغ پاتی عالمی حلال معیشت سے خود کو موثر انداز میں ہم آہنگ کرے ، ساجد عزیر میر

مزید خبریں
لاہور۔28ستمبر (اے پی پی):صدر پاکستان بزنس فورم لاہور ریجن ساجد عزیز میر نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستان کی بزنس کمیونٹی کو چاہیے کہ وہ کھربوں ڈالر کی تیزی سے فروغ پاتی عالمی حلال معیشت سے خود کو موثر انداز میں ہم آہنگ کرے، کیونکہ اس شعبے میں اس کے پاس بے پناہ صلاحیت اور ترقی کے مواقع موجود ہیں۔ اتوار کو یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر حلال انڈسٹری غیر معمولی رفتار سے ترقی کر رہی ہے۔یہ صنعت صرف مسلم آبادی تک محدود نہیں رہی، بلکہ غیر مسلم ممالک میں بھی تیزی سے مقبول ہو رہی ہے، جو ہمارے جیسے ممالک کے لیے ایک نادر موقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ رواں مالی سال میں دنیا بھر کے مسلمان خوراک، فیشن، سیاحت، دواسازی اور کاسمیٹکس سمیت حلال تجارت پر تقریبا 2.4 ٹریلین امریکی ڈالر خرچ کریں گے، جب کہ یہ حجم 2028 تک 3.5 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر سکتا ہے۔ صدر پی بی ایف لاہور کا کہنا تھا کہ میں پرامید ہوں کہ پاکستان خوراک، فیشن، مشروبات، کاسمیٹکس، فارماسیوٹیکل اور سیاحت سمیت تمام اہم حلال شعبوں میں موثر کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا حلال کا مطلب صرف شرعی اصولوں کی پابندی نہیں بلکہ یہ معیار قیمت کے عوض بہتر قدر اور صارفین کے اعتماد کی بھی ضمانت ہونی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حلال مصنوعات کو روحانی اطمینان کے ساتھ ساتھ عملی افادیت بھی فراہم کرنی چاہیے۔ برازیل صرف گوشت کی مد میں ہر سال عرب ممالک کو 24 ارب ڈالر کی برآمدات کرتا ہے جب کہ اس میں دواسازی، کاسمیٹکس اور دیگر شعبے شامل نہیں۔ ساجد میر نے مزید بتایا کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ برازیل جیسے بڑے برآمد کنندہ ملک کے اعلی حکام اب بھی اپنی حلال انڈسٹری کو مزید بہتر بنانے میں تعاون کے خواہاں ہیں۔ اگر دنیا کا سب سے بڑا ایکسپورٹر مزید امکانات دیکھ رہا ہے تو اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے لیے یہ کتنا بڑا موقع ہے۔
انہوں نے حلال سیاحت کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ بعض غیر مسلم ممالک، جو پہلے ہی عالمی سیاحت کے مقبول ترین مقامات میں شمار ہوتے ہیں، اب مسلم سیاحوں کو مزید متوجہ کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں ، اس جانب توجہ دلاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان میں تو خوراک اور مشروبات فطری طور پر حلال ہیں، لیکن غیر مسلم ممالک میں حلال مصنوعات کے لیے علیحدہ پیداوار لائنز قائم کرنا پڑتی ہیں، جس سے غلطی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک میں حلال پیداوار پہلے سے موجود ہے، مگر اسے موثر حکمت عملی سے عالمی مارکیٹ میں لانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ حلال معیشت کے چار بڑے شعبے حلال پروٹین، فارماسیوٹیکل و کاسمیٹکس، حلال سیاحت اور حلال فیشن پاکستان کے لیے زبردست مواقع فراہم کرتے ہیں۔ پاکستان بزنس فورم کے مطابق حلال پروٹین کی عالمی کھپت 1 ٹریلین ڈالر سالانہ ہے، جس میں پاکستان کا حصہ صرف 0.5 بلین ڈالر ہے۔ حلال فارماسیوٹیکل اور کاسمیٹکس کی عالمی تجارت 250 بلین ڈالر ہے جبکہ پاکستان کی شراکت صفر ہے۔








