اسلام آباد۔30ستمبر (اے پی پی):وزارتِ خزانہ نے کہا ہے کہ جولائی 2025 سے شدید سیلاب کے باوجود رواں مالی سال کے ابتدائی دو ماہ میں معیشت نے استحکام اور ترقی کا تسلسل برقرار رکھا جس کی وجہ مہنگائی میں کمی، بڑی صنعتوں کی مضبوط کارکردگی اور مالیاتی نظم و ضبط ہے۔ ماہانہ ”معاشی جائزہ اور آئوٹ لک“ رپورٹ کے مطابق جولائی میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 9 فیصد سالانہ …
سیلاب کے باوجود ملکی معیشت مستحکم، مہنگائی میں کمی اور بڑی صنعتوں کی شرح نمو میں اضافہ ہوا، وزارت خزانہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔30ستمبر (اے پی پی):وزارتِ خزانہ نے کہا ہے کہ جولائی 2025 سے شدید سیلاب کے باوجود رواں مالی سال کے ابتدائی دو ماہ میں معیشت نے استحکام اور ترقی کا تسلسل برقرار رکھا جس کی وجہ مہنگائی میں کمی، بڑی صنعتوں کی مضبوط کارکردگی اور مالیاتی نظم و ضبط ہے۔ ماہانہ ”معاشی جائزہ اور آئوٹ لک“ رپورٹ کے مطابق جولائی میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 9 فیصد سالانہ اضافہ ہوا جس کی قیادت ٹیکسٹائل، آٹو موبائل اور سیمنٹ شعبوں نے کی۔
سیمنٹ کی ترسیلات میں 20 فیصد سے زائد اضافہ ہوا جبکہ گاڑیوں کی پیداوار میں بھی نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی۔ مہنگائی کے دبائو میں نمایاں کمی آئی اور اگست 2025 میں صارف قیمتوں کا اشاریہ (CPI) 3 فیصد رہا جو گزشتہ سال 9.6 فیصد تھا۔ جولائی تا اگست مالی سال 2026 کے دوران اوسط مہنگائی 3.5 فیصد رہی جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 10.4 فیصد تھی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ مالیاتی کھاتوں میں لچک دیکھنے میں آئی اور بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 0.2 فیصد رہا جبکہ 228.9 ارب روپے کا پرائمری سرپلس حاصل ہوا۔
ایف بی آر کی محصولات میں 14.1 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 1.66 کھرب روپے تک پہنچ گئیں۔ بیرونی شعبہ بھی مستحکم رہا، برآمدات 10.2 فیصد بڑھ کر 5.3 ارب ڈالر ہو گئیں جبکہ ترسیلاتِ زر 7 فیصد اضافے کے ساتھ 6.4 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔ 19 ستمبر 2025 تک زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 19.8 ارب ڈالر ہو گئے جن میں سے 14.4 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک کے پاس تھے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان جاری رہا اور کے ایس ای 100 انڈیکس اگست میں 148,617 پوائنٹس پر بند ہوا۔
رپورٹ کے مطابق مستقبل میں معیشت کا مجموعی منظرنامہ مستحکم رہے گا، جس کی بنیاد صنعتی بحالی، ترسیلاتِ زر میں تسلسل اور عالمی اجناس کی قیمتوں میں کمی ہے۔ تاہم سیلاب سے پیدا ہونے والی رکاوٹیں عارضی طور پر خوراک کی فراہمی پر دباؤ ڈال سکتی ہیں اور مہنگائی کو 3.5 تا 4.5 فیصد تک بڑھا سکتی ہیں۔ عالمی سطح پر فچ ریٹنگز نے 2025 میں 2.4 فیصد شرح نمو کی پیشگوئی کی ہے جبکہ امریکہ، چین اور یوروزون جیسی بڑی برآمدی منڈیوں میں بڑھتی طلب پاکستان کے بیرونی کھاتوں کو سہارا دے گی۔








