تہران ۔2اکتوبر (اے پی پی):ایران نے اسرائیل کی جانب سے غزہ کیلئے بین الاقوامی انسانی امداد لے جانے والے بحری قافلے کو روکنے اور اس میں شامل افراد کو حراست میں لینے کی سخت مذمت کی ہے۔شنہوا کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے جمعرات کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کا یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور دہشت گردی …
ایران کی اسرائیل کی جانب سے غزہ جانے والے امدادی قافلے کو روکنے کی مذمت

مزید خبریں
تہران ۔2اکتوبر (اے پی پی):ایران نے اسرائیل کی جانب سے غزہ کیلئے بین الاقوامی انسانی امداد لے جانے والے بحری قافلے کو روکنے اور اس میں شامل افراد کو حراست میں لینے کی سخت مذمت کی ہے۔شنہوا کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے جمعرات کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کا یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور دہشت گردی پر مبنی کارروائی ہے۔یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب اسرائیل نے گزشتہ روز تصدیق کی کہ اس نے گلوبل سموڈ فلوٹیلا کی کئی کشتیوں کو بحیرہ روم میں روک کر ان کے مسافروں کو ایک اسرائیلی بندرگاہ منتقل کر دیا ہے۔
ترجمان نے اسرائیل کے اس اقدام کو فلسطینی عوام کی حمایت میں سرگرم عالمی کارکنوں پر بار بار حملہ قرار دیا اور کہا کہ یہ قافلہ غزہ کی مظلوم عوام کی حمایت میں ایک انسانی اور اخلاقی کوشش تھی، جسے طاقت کے ذریعے روکنا انسانیت سوز عمل ہے۔واضح رہے اس قافلے میں 50 سے زائد بحری جہاز اور 500 سے زیادہ رضاکار شامل تھے جو 40 سے زائد ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔
قافلے کا مقصد اسرائیل کی بحری ناکہ بندی کو چیلنج کرنا اور غزہ کے عوام تک خوراک اور طبی امداد پہنچانا تھا۔ایران نے بین الاقوامی کارکنوں اور عوامی تنظیموں کی اس کوشش کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ جذبہ عالمی ضمیر کا مظہر ہے، جو غزہ کے عوام پر مسلط محاصرے کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔








