اقوام متحدہ۔4اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نے کولمبیا میں دہائیوں پر محیط تنازعے کے بعد قیام امن کی کوششوں کو درپیش چیلنجز کے تناظر میں اس ملک کے تمام مسلح گروہوں پر زور دیا ہے کہ وہ تشدد کا راستہ چھوڑ کر جامع امن مذاکرات کے عمل کا دوبارہ عہد کریں۔ یہ بات اقوام متحدہ میں پاکستانی مشن کے کونسلر محمد کامران تاج نے کولمبیا کی صورتِ حال پر اقوامِ متحدہ …
کولمبیا کے مسلح گروہ تشدد ترک کر کے امن مذاکرات کے عمل کا دوبارہ عہد کریں، پاکستان

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔4اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نے کولمبیا میں دہائیوں پر محیط تنازعے کے بعد قیام امن کی کوششوں کو درپیش چیلنجز کے تناظر میں اس ملک کے تمام مسلح گروہوں پر زور دیا ہے کہ وہ تشدد کا راستہ چھوڑ کر جامع امن مذاکرات کے عمل کا دوبارہ عہد کریں۔
یہ بات اقوام متحدہ میں پاکستانی مشن کے کونسلر محمد کامران تاج نے کولمبیا کی صورتِ حال پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ 2016 میں طے پانے والا امن معاہدہ جو کولمبیا کی قیادت اور ملکیت میں عمل میں آیا، تشدد سے پاک، پرامن، ترقی یافتہ اور خوشحال مستقبل کی روشن امید ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ متعدد چیلنجز درپیش ہیں لیکن امن معاہدے کے فریقین اب بھی اپنے عزم پر قائم اور امن عمل میں سرگرم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کولمبیا کی حکومت اور 2016 کے معاہدے کے فریقین کی اب تک کی پیشرفت بالخصوص ان کا مسلسل عزم اور استقامت قابل تعریف ہے۔ پاکستانی مندوب نے سابق جنگجوؤں، سماجی رہنماؤں اور انسانی حقوق کے محافظوں کو نشانہ بنائے جانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سابق جنگجوؤں کی سماجی بحالی، دیہی اصلاحات میں پیش رفت، روزگار کے مواقع کی فراہمی اور تحفظ کے مؤثر اقدامات پائیدار امن کے لیے بنیادی ستون ہیں۔
اس حوالے سے پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ سینیٹر میگوئل یوریبی ٹربے کا قتل ان چیلنجز کی واضح یاد دہانی ہے جن کا سامنا کولمبیا کو انتخابی عمل کے قریب آنے پر ہے۔انہوں نے کہاکہ بعض علاقوں میں سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال تشویشناک ہے جو نہ صرف اب تک کی پیش رفت کو خطرے میں ڈال سکتی ہے ۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ ہم کولمبیا کی حکومت کی ریاستی اداروں کی موجودگی سے محروم علاقوں میں حفاظتی اقدامات اور ریاستی کنٹرول کو مضبوط بنانے کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔








