سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کا غزہ میں اسرائیلی کارروا ئیاں فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ

اقوام متحدہ۔7اکتوبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جن کی قیمت عام لوگوں کو اپنی جانوں اور مستقبل سے ادا کرنا پڑتی ہے۔ اردو نیوز کے مطابق انہوں نے تمام یرغمالیوں کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ د ہرایا۔ انہوں …

اقوام متحدہ۔7اکتوبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جن کی قیمت عام لوگوں کو اپنی جانوں اور مستقبل سے ادا کرنا پڑتی ہے۔ اردو نیوز کے مطابق انہوں نے تمام یرغمالیوں کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ د ہرایا۔ انہوں نے غزہ کی صورتحال کے حوالے سے کہا کہ سب کے مصائب کا خاتمہ کریں۔ غزہ میں انسانی تباہی ایک ایسی سطح پر ہے جو فہم سے بالا ہے۔

اسرائیل کی جانب سے7 اکتوبر کے بعد غزہ میں آپریشن کے دوران اب تک 67 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں سے زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں جبکہ لاکھوں افراد زخمی ہوئے۔ اقوام متحدہ کا خیال ہے کہ تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے ہزاروں افراد کی نعشیں ہو سکتی ہیں اس لئے مذکورہ اعداد و شمار کم ثابت ہو سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے زور دیتے ہوئے کہا کہ یرغمالیوں کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے اور مستقل جنگ بندی کے معاہدے کی طرف بڑھا جائے اور ایسے قابل اعتماد سیاسی عمل کی طرف جایا جائے جو مزید خونریزی روکے۔

انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ غزہ امن منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ایسا موقع ہے جس سے اس المناک تنازع کو ختم کرنے کے لیے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بین الاقوامی قانون کا ہر صورت میں احترام کیا جائے اور ایک بار پھر د ہرایا کہ اقوام متحدہ امن کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ جنگ کے متاثرین کو صرف ایک یادگاری موقع تک یاد نہ رکھا جائے بلکہ ایسے اقدامات کیے جانے چاہییں جو منصفانہ اور دیرپا امن کا باعث بنیں، جس میں فلسطینی، اسرائیلی اور خطے کے تمام لوگ سلامتی، باہمی احترام اور وقار کے ساتھ زندگی گزاریں۔