اسلام آباد۔7اکتوبر (اے پی پی):ضیاالامین سی پیک محض اینٹ پتھر کا منصوبہ نہیں، بلکہ امیدوں، ترقی اور خوشحالی کا سفر ہے جو پاکستان اور چین کے مشترکہ خوابوں کو حقیقت میں بدل رہا ہے۔جب 2013 میں چین۔پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا آغاز ہوا تو یہ "بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو" کا فلیگ شپ منصوبہ ہونے کے باوجود محض ایک جرات مندانہ تصور کے طور پر موجود تھا۔ اُس وقت …
سی پیک محض اینٹ پتھر کا منصوبہ نہیں ،امیدوں، ترقی اور خوشحالی کا سفر ہے

مزید خبریں
اسلام آباد۔7اکتوبر (اے پی پی):ضیاالامین
سی پیک محض اینٹ پتھر کا منصوبہ نہیں، بلکہ امیدوں، ترقی اور خوشحالی کا سفر ہے جو پاکستان اور چین کے مشترکہ خوابوں کو حقیقت میں بدل رہا ہے۔جب 2013 میں چین۔پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا آغاز ہوا تو یہ "بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو” کا فلیگ شپ منصوبہ ہونے کے باوجود محض ایک جرات مندانہ تصور کے طور پر موجود تھا۔ اُس وقت پاکستان شدید توانائی بحران، کمزور انفراسٹرکچر اور جمود زدہ معیشت کا شکار تھا۔ بہت کم لوگ تصور کرسکتے تھے کہ صرف ایک دہائی میں سی پیک ملک کی اقتصادی ساخت کو اس قدر گہرائی سے بدل دے گا۔
لیکن آج وہ خواب حقیقت بن چکا ہے، جس نے پاکستان کی توانائی سکیورٹی، رابطے اور ترقی کے امکانات کو نئی جہت دی ہے اور چین کے ساتھ تزویراتی شراکت داری کو مزید مستحکم بنایا ہے۔سی پیک کے پہلے مرحلے نے وہ ممکن کر دکھایا جو کبھی ناممکن لگتا تھا۔ توانائی کے شعبے میں 17 بڑے منصوبے مکمل کیے گئے جن کی مجموعی پیداوار 8,904 میگاواٹ ہے۔ ان منصوبوں میں دو کوئلے کی کانیں اور ملک کی پہلی 660 کے وی ایچ وی ڈی سی ٹرانسمیشن لائن شامل ہیں، جن پر تقریباً 18 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی۔
ان منصوبوں نے اُس توانائی بحران کا خاتمہ کیا جس نے گھروں کو اندھیرے میں اور صنعتوں کو جمود میں ڈال رکھا تھا۔ تھر کے طویل عرصے سے نظر انداز کیے گئے کوئلے کے ذخائر اب بجلی پیدا کر رہے ہیں، کارخانوں کو چلا رہے ہیں اور ملک کو توانائی کے لحاظ سے محفوظ بنا رہے ہیں۔ لاکھوں شہریوں کے لیے سی پیک اب صرف ایک منصوبہ نہیں بلکہ روشنی، روزگار اور امید کا استعارہ ہے۔توانائی کے ساتھ ساتھ نقل و حمل کے شعبے میں بھی انقلاب برپا ہوا۔ 6.7 ارب ڈالر کے آٹھ بڑے منصوبوں کے تحت 888 کلومیٹر جدید شاہراہیں اور موٹرویز مکمل ہو چکی ہیں جبکہ 853 کلومیٹر مزید زیر تعمیر ہیں۔ ان میں حویلیاں تا تھاکوٹ سیکشن نمایاں ہے جو اپنی تکنیکی مہارت اور تزویراتی اہمیت کے باعث بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا۔
یہ شاہراہیں صرف سڑکیں نہیں بلکہ ترقی کی نئی راہیں ہیں جو سفر کے اوقات کو کم، منڈیوں کو قریب، اور دور دراز علاقوں کو قومی دھارے میں شامل کر رہی ہیں۔ اسی طرح خنجراب تا راولپنڈی 820 کلومیٹر فائبر آپٹک کیبل نے پاکستان کو پہلی بار چین کے ساتھ زمینی ڈیجیٹل رابطہ فراہم کیا، جبکہ لاہور میں اورنج لائن میٹرو ٹرین نے شہری ٹرانسپورٹ کے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔گوادر اس تبدیلی کی سب سے نمایاں مثال ہے۔ کبھی ایک پُر سکون ماہی گیر بستی، آج یہ پاکستان کا سمندری دروازہ بن رہی ہے۔ چینی گرانٹ سے مکمل ہونے والے منصوبے جیسے جدید ہسپتال، ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ، ڈی سیلی نیشن پلانٹ، سولر ہوم سسٹم اور نیا گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ نہ صرف بنیادی سہولیات فراہم کر رہے ہیں بلکہ مقامی کمیونٹیز کے معیارِ زندگی کو بہتر بنا رہے ہیں۔
گوادر اب علاقائی تجارت اور رابطے کا مرکز بننے کی جانب گامزن ہے — ایک ایسا خواب جو اب حقیقت کا روپ دھار رہا ہے۔تاہم، سی پیک کے پہلے مرحلے کی کامیابیاں اختتام نہیں بلکہ آغاز ہیں۔ بنیادیں تعمیر ہو چکی ہیں، اب وقت ہے عمارت کھڑی کرنے کا۔ اگلا مرحلہ محض انفراسٹرکچر کی تعمیر سے آگے بڑھ کر صنعتی ترقی، روزگار کے مواقع، برآمدات میں اضافہ اور عوامی بااختیاری کی جانب سفر ہے۔ سی پیک فیز-ٹو کا مقصد رابطے کو تجارت میں، انفراسٹرکچر کو مواقع میں، اور شراکت داری کو مشترکہ خوشحالی میں بدلنا ہے۔اس تبدیلی کا روڈ میپ سی پیک کی 14ویں جوائنٹ کوآپریشن کمیٹی (JCC) میں تشکیل دیا جا رہا ہے، جس میں پاکستان اور چین اس مرحلے کو پاکستان کے "نیشنل اکنامک ٹرانسفارمیشن پلان” کے مطابق ہم آہنگ کر رہے ہیں، جو ” Es 5″ یعنی ایکسپورٹس، ای۔پاکستان، انرجی/انوائرنمنٹ اور ایکویٹی و ایمپاورمنٹ کے فریم ورک پر مبنی ہے۔

فیز ٹو میں پانچ نئے تعاون کے کوریڈورز متعارف کروائے جا رہے ہیں: ترقی، اختراع، سبز ترقی، روزگار و فلاح اور علاقائی روابط۔ یہ صرف منصوبے نہیں بلکہ مشترکہ پائیدار مستقبل کے وژن ہیں۔خصوصی اقتصادی زونز (SEZs) کی ترقی اس سمت میں اہم قدم ہے۔ ان زونز میں سرمایہ کاروں کو ٹیکس میں چھوٹ، کسٹمز میں رعایتیں اور جدید سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ سستی افرادی قوت، تزویراتی محلِ وقوع اور بہتر توانائی و لاجسٹک سہولتوں کے باعث پاکستان اب ایک مسابقتی سرمایہ کاری کی منزل کے طور پر ابھر رہا ہے۔ یہ زونز نہ صرف سرمایہ کاری لائیں گے بلکہ پاکستانی کاروباروں کو عالمی ویلیو چینز کا حصہ بنائیں گے، روزگار کے نئے مواقع پیدا کریں گے اور برآمدات بڑھائیں گے۔زراعت کا شعبہ بھی ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔ پاکستان نے اب چین کو مرچ، تل، بیف اور جانوروں کی کھالوں کی برآمدات شروع کر دی ہیں۔ مگر اصل موقع زرعی جدیدیت میں پوشیدہ ہے۔
جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور سائنسی کاشتکاری کے ذریعے ہم پیداوار میں اضافہ، بعد از فصل نقصان میں کمی، اور کسانوں کی آمدنی میں بہتری لا سکتے ہیں۔ چین کے سنکیانگ خطے کے ساتھ تعاون، جہاں زراعت میں اعلیٰ ٹیکنالوجی استعمال ہو رہی ہے، اس ضمن میں امید افزا امکانات فراہم کرتا ہے۔ ایک جدید زرعی شعبہ پاکستان کے لیے نہ صرف خوراک کی خودکفالت بلکہ برآمدات میں اضافہ اور دیہی معیشت کی مضبوطی کا ذریعہ بنے گا۔ٹیکنالوجی اور اختراع بھی اگلے مرحلے کے ستون ہوں گے۔ سائنس و ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپس تشکیل دیے گئے ہیں جو مصنوعی ذہانت، ای۔کامرس اور ڈیجیٹل کنیکٹیوٹی جیسے جدید شعبوں میں تعاون کو فروغ دیں گے۔ فائبر نیٹ ورک، ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت، اور ای۔گورننس میں سرمایہ کاری ایک علم پر مبنی معیشت کی بنیاد رکھے گی۔
پاکستانی نوجوانوں کے لیے یہ صرف مواقع نہیں بلکہ مستقبل کی عالمی صنعتوں میں قیادت کے امکانات پیدا کرے گی۔سی پیک کا دوسرا مرحلہ حکومت سے نجی شعبے کی شراکت داری کی طرف منتقلی کا دور ہے۔ اب نجی سرمایہ، کاروباری تخلیقی صلاحیت اور تکنیکی اختراع ترقی کے نئے محرکات ہوں گے۔ حال ہی میں بیجنگ میں پاک۔چین بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس میں دونوں ممالک کی 800 سے زائد کمپنیوں نے شرکت کی، جس کے نتیجے میں 8.5 ارب ڈالر کے مشترکہ منصوبے اور مفاہمتی یادداشتیں طے پائیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سی پیک اب سرکاری منصوبوں سے آگے بڑھ کر کاروباری شراکت داری کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے۔
سی پیک کی کامیابی کے لیے شمولیت اور پائیداری بنیادی شرائط ہیں۔ اس کے ثمرات کو بڑے شہروں سے لے کر ہر صوبے، ضلع اور گھر تک پہنچنا چاہیے۔ مساوات اور بااختیاری سے ہی حقیقی خوشحالی ممکن ہے، جبکہ ماحول دوست ترقی مستقبل کو محفوظ بنائے گی۔ پاکستان نے سی پیک منصوبوں اور چینی عملے کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے بھی جامع اقدامات کیے ہیں کیونکہ امن و استحکام ترقی کی بنیاد ہے۔سی پیک کا پہلا عشرہ پاکستان کو نئی سڑکیں، بجلی گھر اور بندرگاہیں دے چکا ہے۔ اگلا عشرہ ہمیں نئی صنعتیں، نئی ٹیکنالوجی، نئی منڈیاں اور سب سے بڑھ کر نئے مواقع فراہم کرے گا۔
یہ روزگار پیدا کرے گا، برآمدات بڑھائے گا، پائیدار ترقی کو فروغ دے گا اور علاقائی روابط کو مضبوط کرے گا۔پاکستان اور چین کے اس نئے سفر کا چیلنج صرف مزید انفراسٹرکچر تعمیر کرنا نہیں بلکہ اس انفراسٹرکچر کو ترقی کے مواقع اور خوشحالی میں بدلنا ہے۔سی پیک کا پہلا عشرہ پاکستان کا نقشہ بدل چکا ہے، اگلا عشرہ پاکستان کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ پاکستان اور چین کو مل کر یہ یقینی بنانا ہے کہ سی پیک صرف کنکریٹ کی راہداری کے طور پر نہیں بلکہ امید، ترقی اور مشترکہ خوشحالی کی راہداری کے طور پر یاد رکھا جائے۔








