سپریم کورٹ میں چھبیسویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت منگل تک ملتوی

اسلام آباد۔13اکتوبر (اے پی پی):Pro-Ref سپریم کورٹ میں چھبیسویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت منگل تک ملتوی کردی گئی ۔ چھبیسویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت پیر کو آٹھ رکنی آئینی بینچ نے کی، جس کی سربراہی جسٹس امین الدین خان نے کی۔ دورانِ سماعت بینچ اور وکیل عابد زبیری کے درمیان آئینی بینچ، فل کورٹ اور چیف جسٹس کے اختیارات سے متعلق تفصیلی قانونی بحث …

اسلام آباد۔13اکتوبر (اے پی پی):Pro-Ref سپریم کورٹ میں چھبیسویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت منگل تک ملتوی کردی گئی ۔ چھبیسویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت پیر کو آٹھ رکنی آئینی بینچ نے کی، جس کی سربراہی جسٹس امین الدین خان نے کی۔ دورانِ سماعت بینچ اور وکیل عابد زبیری کے درمیان آئینی بینچ، فل کورٹ اور چیف جسٹس کے اختیارات سے متعلق تفصیلی قانونی بحث ہوئی۔ابتدا میں جسٹس عائشہ ملک نے وکیل عابد زبیری سے استفسار کیا کہ آپ کی درخواست کیا ہے؟ جس پر عابد زبیری نے مؤقف اپنایا کہ چھبیسویں آئینی ترمیم سے قبل کے ججز پر مشتمل فل کورٹ کو یہ مقدمہ سننا چاہیے۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ ترمیم خود چیلنج کی گئی ہے، اس لیے اس کے تحت بننے والے آئینی بینچ کو یہ کیس سننے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔جسٹس جمال مندوخیل نے سوال اٹھایا کہ کیا کسی فریق کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مخصوص بینچ یا ججز کا تقرر مانگے؟ انہوں نے ریمارکس دیے کہ ہم پابند نہیں کہ بینچ تبدیل کریں، عدالت کا ہر جج برابر عزت و احترام رکھتا ہے۔وکیل عابد زبیری نے کہا کہ وہ کسی جج کی نیت پر شک نہیں کر رہے، لیکن چاہتے ہیں کہاتنے حساس آئینی معاملے پر فیصلہ اجتماعی طور پر فل کورٹ کو دینا چاہیے۔

جسٹس مندوخیل نے دریافت کیا کہ اگر فل کورٹ بنے تو اس میں 16 ججز ہوں یا سپریم کورٹ کے تمام 24 ججز شامل کیے جائیں؟جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ آئین کے آرٹیکل 191 میں فل کورٹ کا ذکر نہیں بلکہ بینچ کی بات کی گئی ہےجبکہ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ "فل کورٹ کو بھی بینچ ہی کہا جاتا ہے۔ جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ کیا 26ویں ترمیم کے تحت تعینات ججز اس معاملے پر عدالتی احکامات جاری کر سکتے ہیں اس پر عابد زبیری نے کہا کہ آئینی بینچ کو اختیار حاصل ہے کہ وہ فل کورٹ کی تشکیل کا جوڈیشل آرڈر دے ۔

جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل 191 کے تحت آئینی معاملات آئینی بینچ ہی سنے گا اور فل کورٹ کا لفظ آئین میں موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ چھبیسویں ترمیم سے قبل کے ججز فل کورٹ کا حصہ ہوں، لیکن آئین کے تحت یہی ججز آئینی بینچ کے رکن نہیں۔سماعت کے دوران وکیل عابد زبیری نے مختلف عدالتی فیصلوں کے حوالے بھی دیے اور مؤقف اپنایا کہ فل کورٹ کی تشکیل سے عدالت کی اجتماعی دانش بروئے کار آئے گی۔بعدازاں آئینی بنچ نے کیس کی مزید سماعت منگل تک ملتوی کر دی۔