دھان کی باقیات کو آگ لگانا قابلِ سزا جرم ہے، ترجمان محکمہ زراعت پنجاب

لاہور۔14اکتوبر (اے پی پی):دھان کے کاشتکار کٹائی کے بعد سموگ سے بچائو کیلئے فصلوں کی باقیات کو ہرگز آگ نہ لگا نے کی ہدایت کر دی گئی۔ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے کہا ہے کہ دھان کے کاشتکار فصلوں کی باقیات کی تلفی کیلئے دی گئی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔ دھان کے مڈھوں کو آگ لگانے سے زمین کی بالائی سطح پر موجود نامیاتی مادہ کو نقصان پہنچتا ہے …

لاہور۔14اکتوبر (اے پی پی):دھان کے کاشتکار کٹائی کے بعد سموگ سے بچائو کیلئے فصلوں کی باقیات کو ہرگز آگ نہ لگا نے کی ہدایت کر دی گئی۔ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے کہا ہے کہ دھان کے کاشتکار فصلوں کی باقیات کی تلفی کیلئے دی گئی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔ دھان کے مڈھوں کو آگ لگانے سے زمین کی بالائی سطح پر موجود نامیاتی مادہ کو نقصان پہنچتا ہے اور زمین کی زرخیزی متاثر ہوتی ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ وزیر اعلی پنجاب کے سموگ کنٹرول پروگرام کے تحت5 ارب روپے کی لاگت سے کاشتکاروں کو5 ہزار سپر سیڈرز60 فیصد سبسڈی پر فراہم کیے گئے ہیں تاکہ فصلوں کی باقیات کو جدید مشینری کے استعمال سے کار آمد بنایا جا سکے،کاشتکار سپر سیڈرز کی مدد سے فصل کی باقیات کو تلف کر سکتے ہیں۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ اس کے علاوہ کاشتکار کٹائی کے بعد مڈھوں کو آگ لگانے کی بجائے انہیں زمین میں ملا کر زمین کی زرخیزی میں اضافہ کرسکتے ہیں۔ اس ضمن میں دھان کے مڈھوں کو تلف کرنے کیلئے کاشتکار دستی کٹائی کی بجائے روٹا ویٹر سے کٹائی کی صورت میں ڈسک ہیرو کی مدد سے فصل کی باقیات کو زمین میں ملا دیں یا گہرا ہل چلا کر آدھی بوری یوریا فی ایکڑ چھٹہ کر کے پانی لگا دیں۔

مزید خبریں