قومی اسمبلی اجلاس، وزارت تخفیف غربت وسماجی تحفظ پر اپوزیشن کی کٹوتی کی تحریکیں مسترد ،859 ارب 97 کروڑ 65 لاکھ روپے سے زائد کے 3 مطالبات زر کی منظوری

قومی اسمبلی اجلاس، وزارت تخفیف غربت و سماجی تحفظ کے مطالبات زر کی منظوری، اپوزیشن کی کٹوتی کی تحریکیں مسترد

اسلام آباد۔22جون (اے پی پی):قومی اسمبلی نے وزارت تخفیف غربت وسماجی تحفظ پر اپوزیشن کی کٹوتی کی تحریکیں مسترد کرتے ہوئے 859 ارب 97 کروڑ 65 لاکھ روپے سے زائد کے 3 مطالبات زر کی منظوری دے دی

جبکہ وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ سید عمران احمد شاہ نے کہا ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ڈیجیٹل وائیلٹ کے ذریعے ادائیگیاں اور پاکستان بیت المال کو ڈیجیٹائز کر دیا گیا ہے، آنے والے دنوں میں اس میں مزید شفافیت نظر آئے گی۔ پیر کو قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ سید عمران احمد شاہ نے کٹوتی کی تحریکوں پر جاری بحث سمیٹتے ہوئے کہا کہ یہ وزارت 2019ء میں پی ٹی آئی کے دور میں قائم ہوئی، پی ٹی آئی آج وہی اس پر تنقید کر رہے ہیں، یہ ان کا حق ہے لیکن وہ اپنے پائوں پر خود کلہاڑی مار رہے ہیں اور وہ کٹوتی کی تحریکوں کے ذریعے اس وزارت کے بجٹ کو بند کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے حیرت ہے کہ یہ نیکی اور بھلائی کے کاموں میں تعاون کرنے کی بجائے اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ یہاں پر اراکین نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے غربت پر کم اور عمومی اور سیاسی معاملات پر زیادہ بات کی، ان کا فوکس غربت پر کم اور عمران نیازی پر زیادہ تھا کیونکہ ان کے نزدیک عمران نیازی ایک غریب آدمی تھا اور توشہ خان سے تحفے بیچ کر اپنا گزارا کرتا تھا۔ عمران احمد شاہ نے کہا کہ 1991ء میں میرے قائد محمد نوازشریف نے پاکستان میں بیت المال کی بنیاد رکھی جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام 2008ء میں شروع ہوا اور اس وقت کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اس کی بنیاد رکھی، اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی 45 تحریکیں پیش کی گئیں جن میں زیادہ تر بیت المال، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے حوالے سے تھیں جبکہ اراکین نے تین چیزوں پر اپنی تقاریر میں زور دیا جس میں شفافیت، بلوچستان سرفہرست تھے ۔انہوں نے کہا کہ انکم سپورٹ پروگرام کے تحت بلوچستان کیلئے تعلیمی وظائف کے حصول کیلئے اہلیت باقی صوبوں کی نسبت 32 سے بڑھا کر 60 کر دی گئی ہے یہ بلوچستان کو اس پروگرام میں ہماری ترجیح کا عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی 25 موبائل وینز میں سے 17 بلوچستان میں خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بیت المال کے 73 پاکستان کی جامعات اور کالجز میں دیئے جانے والے تعلیمی وظائف میں سے 21 جامعات اور کالجز بلوچستان سے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان کے کل 157 اضلاع میں ڈائنامک رجسٹری مراکز قائم کئے ہیں ان میں سے 160 بلوچستان میں ہیں جبکہ 578 سہولت مراکز میں سے 100 سے زیادہ بلوچستان میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر ان کی توجہ اور وژن کے مطابق بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے ڈیجیٹل وائیلٹ بنایا گیا ہے اب مستحقین کو جو قسط ملے گی وہ اسی وائیلٹ کے ذریعے ملے گی۔ اس کے بعد جو معمولی شکایات آتی تھیں وہ بھی ختم ہو جائیں گی۔ اسی طرح پاکستان بیت المال کو بھی ڈیجیٹلائز کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے وقتوں میں وزیراعظم پاکستان کے وژن کے مطابق غربت کے خاتمے کے ہر شعبہ میں مزید شفافیت نظر آئے گی۔ شاہد خٹک نے کہا کہ غربت کے خاتمے کے لئے زراعت اور صنعت سے وابستہ لوگوں کو ریلیف دینا ہو گی۔ ڈاکٹر عظیم الدین لکھوی نے کہا کہ ملک میں غربت کی شرح بلند ہو رہی ہے۔ عالیہ کامران نے کہا کہ ملک میں غربت کی شرح 28.9 تک پہنچ گئی ہے، غربت کا پیمانہ 8683 روپے ہے اس سے زائد آمدن والا غریب نہیں۔اس آمدن میں کیسے گزارا ممکن ہے۔ احد شاہ نے کہا کہ غربت کو ختم کرنے کے لئے سمال انڈسٹریز کے راستے میں حائل مشکلات دور کی جائیں، نوجوانوں کو بلاسود قرض کی آسان شرائط پر فراہمی یقینی بنائیں۔ نعیمہ کشور نے کہا کہ بیت المال کو ڈیجیٹائز کیا جائے۔ زبیر خان نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ سرحد کو کھولا جائے،چلغوزہ سے بڑا سرمایہ جمع کیاجا سکتا ہے۔ اسلم گھمن نے کہا کہ ہم 78 سال میں وہیں کھڑے ہیں، غریب کا چولہا نہیں جلتا، ہمیں نوجوان،کسان اور محنت کش کا سوچنا چاہیے۔عامر ڈوگر نے کہا کہ غربت کا خاتمہ اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے،کامیاب معاشی پالیسی میں عام آدمی کی زندگی میں بہتری آتی ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافہ اور پٹرول کی قیمتوں کو مزید کم کیاجائے۔ علی محمد خان نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا ہر پانچ سال بعد یونین کونسل کی سطح پر غیر سیاسی سروے کیا جانا چاہیے۔ شہریار آفریدی نے کہا کہ پاکستان میں 86 لاکھ چائلڈ لیبر ہے۔ہنر اور فنی مہارت نہ دیں اور انسانی وسائل پر سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔ملک میں ہیلتھ انشورنس کی ضرورت ہے۔ بعد ازاں ڈپٹی سپیکر نے کٹوتی کی تحریکیں ایوان میں پیش کیں۔ جس کو مسترد کرتے ہوئے ایوان نے مطالبات زر کی منظوری دیدی۔