سینیٹ آف پاکستان کے اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد نے روانڈا کا دو روزہ دورہ مکمل کر لیا

اسلام آباد۔15اکتوبر (اے پی پی):سینیٹ آف پاکستان کے اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد نے روانڈا کا دو روزہ دورہ مکمل کر لیا ،جو دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے استحکام میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔وفد کی قیادت کنوینر پاکستان-روانڈا فرینڈشپ گروپ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کی جبکہ وفد میں سینیٹر بشریٰ انجم بٹ اور سینیٹر جان محمد شامل تھے۔دورے کے دوران وفد نے پارلیمانی سفارتکاری، اقتصادی تعاون اور …

اسلام آباد۔15اکتوبر (اے پی پی):سینیٹ آف پاکستان کے اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد نے روانڈا کا دو روزہ دورہ مکمل کر لیا ،جو دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے استحکام میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔وفد کی قیادت کنوینر پاکستان-روانڈا فرینڈشپ گروپ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کی جبکہ وفد میں سینیٹر بشریٰ انجم بٹ اور سینیٹر جان محمد شامل تھے۔دورے کے دوران وفد نے پارلیمانی سفارتکاری، اقتصادی تعاون اور باہمی ترقیاتی اقدامات کو فروغ دینے کے لیے وسیع البنیاد مشاورت کی۔

روانڈا کی پارلیمنٹ کے اراکین اور اعلیٰ سرکاری حکام نے وفد کی میزبانی کی۔ ملاقاتوں میں تجارت، تعلیم، ٹیکنالوجی، زراعت اور پارلیمانی تبادلوں سمیت مختلف شعبوں میں گہرے تعاون کے امکانات پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔یہ دورہ پاکستان کی ’’انگیج افریقہ‘‘ پالیسی کے تسلسل کی علامت ہے جو بین الپارلیمانی تعاون کے ذریعے عوامی روابط، پالیسی کے تبادلے اور ترقیاتی شراکت داری کو فروغ دینے کے عزم کو مضبوط بناتا ہے۔

پاکستانی سینیٹرز نے روانڈا کی متاثر کن قومی تعمیر نو، اتحاد اور ترقی کی جدوجہد کو سراہا اور روانڈا کے عوام کے حوصلے اور قیادت کی تعریف کی۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ پاکستان اور روانڈا کے درمیان بڑھتی ہوئی دوستی کا مظہر ہے، ہمیں یقین ہے کہ جغرافیائی فاصلے کے باوجود دونوں ممالک امن، ترقی اور خوشحالی کے یکساں خواب سے جڑے ہوئے ہیں۔

یہ دورہ دونوں ممالک کے تعلقات میں حالیہ پیش رفت کا تسلسل ہے، جن میں دونوں ممالک میں ہائی کمشنز کے قیام، وزارتی سطح کے دورے اور سفارتی تربیت، تجارتی سہولت کاری اور سیاسی مشاورت سے متعلق متعدد یادداشتوں پر دستخط شامل ہیں۔

سینیٹ وفد کے اس دورے نے تعاون کے نئے راستے کھول دیئے ہیں بالخصوص ڈیجیٹل اختراعات، تعلیمی تبادلوں، زرعی اجناس اور دواسازی کی تجارت اور کھیلوں کے شعبے میں اشتراک عمل کے امکانات کو فروغ ملا ہے جس میں فٹبال نوجوانوں کے درمیان تعلق کا ایک ممکنہ ذریعہ بن کر ابھرا ہے۔پاکستان مستقبل میں پارلیمانی وفود کے تبادلوں کی میزبانی کا خواہاں ہے تاکہ اس تاریخی دورے کے دوران رکھی گئی بنیادوں پر جنوبی-جنوب تعاون اور ترقی کے مشترکہ وژن کو آگے بڑھایا جا سکے۔