اقوام متحدہ۔16اکتوبر (اے پی پی):اقوام متحدہ نے مطالبہ کیا ہے کہ قحط زدہ غزہ میں جنگ بندی کے بعد اب انسانی بنیادوں پر امداد کی ترسیل میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے کیونکہ اب بھی ہزاروں ضرورت مندوں کے لیے امدادی سامان سے لدے سینکڑوں ٹرکوں کی ضرورت ہے۔ العربیہ اردو کے مطابق یہ مطالبہ اقوام متحدہ کے انسانی امور کے لئے انڈر سیکرٹری جنرل اینڈ ایمرجنسی ریلیف کوآرڈینیٹر ٹام …
جنگ بندی کے بعد غزہ کے لیے امدادی سامان کی ترسیل میں اضافہ کیا جائے،اقوام متحدہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔16اکتوبر (اے پی پی):اقوام متحدہ نے مطالبہ کیا ہے کہ قحط زدہ غزہ میں جنگ بندی کے بعد اب انسانی بنیادوں پر امداد کی ترسیل میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے کیونکہ اب بھی ہزاروں ضرورت مندوں کے لیے امدادی سامان سے لدے سینکڑوں ٹرکوں کی ضرورت ہے۔ العربیہ اردو کے مطابق یہ مطالبہ اقوام متحدہ کے انسانی امور کے لئے انڈر سیکرٹری جنرل اینڈ ایمرجنسی ریلیف کوآرڈینیٹر ٹام فلیچر نے گزشتہ روز ایک انٹرویو کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ غزہ کے لاکھوں لوگوں کو مزید اموات اور مسائل سے بچانے کے لئے ہزاروں امدادی سامان لانے والی گاڑیوں کو ہر ہفتے غزہ میں داخلے کی اجازت دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ انسانی امور کے شعبے کے پاس غزہ میں لے جانے کے لیےایک لاکھ 90 ہزار میٹرک ٹن سامان موجود ہے۔ ہم منتظر ہیں کہ ہمیں اندر لے جانے دیا جائے کیونکہ یہ تمام سامان غزہ کے لوگوں کی جانیں بچانے کے لئےہے اور اہل غزہ کو اس کی فوری ضرورت ہے۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ہر روز غزہ میں امدادی سامان کے 600ٹرک لے جانے پر اتفاق ہوا ہے، تاہم اقوام متحدہ کےعہدیدار ٹام فلیچر نے کہا ہے کہ یہ کافی نہیں ہیں کیونکہ غزہ میں یہ انتہائی ناکافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پچاس کی تعداد میں یورپی و دیگر ملکوں کی این جی اوز غزہ میں امدادی کاموں کے لئے موجود ہیں لیکن سامان کی ترسیل ضرورت کے مقابلے میں کافی کم ہے۔ ٹام فلیچر نے کہا کہ ایک جانب خوراک کی قلت ہے تو دوسری جانب اب جنگ بندی ہو نے کے بعد بھی غزہ میں اسلحہ کا استعمال جاری ہے جبکہ خوراک لوٹ کر بھاگنے کے واقعات بھی ہو رہے ہیں۔
ان وجوہات سے بھی امدادی سامان اور خوارک کی ترسیل متاثر ہوتی ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر یومیہ صرف 60 ٹرک امدادی سامان اور خوراک غزہ میں لا سکیں گے تو یہ مسائل کم نہیں ہوں گے۔ بھوک سے موت کی دہلیز پر پہنچے لوگ ہی خوراک پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ ٹام فلیچر نے مغربی ممالک کی طرف سے فلسطینی اتھارٹی کی حمایت اور رفح کراسنگ کھولنے کی کوششوں کا خیر مقدم کیا ۔
انسانی امور کے انڈر سیکرٹری جنرل نے کہا کہ رفح کراسنگ جب کھلے گی تو طبی ضروریات کے لئے اس راستے سے مریضوں اور زخمیوں کو باہر لے جانا ترجیحاً شروع کیا جائے گا اور اس سلسلے میں ان کی مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے بات چیت ہو چکی ہے۔
انہوں نے معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے سنجیدگی اور تعاون کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا اس جنگ بندی معاہدے کی حمایت کرے تاکہ جنگ بندی کا معاملہ پائیداری اختیار کر سکے اور معاہدے پر پوری طرح عمل ہو۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں ہمیں مکمل امن چاہیے۔
تاکہ ہم جاری آپریشنز کو ممکن بنا سکیں۔ یاد رہے کہ غزہ میں اسرائیلی جنگ کے دوران 22 لاکھ فلسطینی اپنے گھروں سے محروم ہوگئے۔ ان میں سے لاکھوں انسانی ساختہ قحط کا شکار ہیں۔ غذائی قلت کا شکار فلسطینیوں میں ان کے شیر خوار بچے تک شامل ہیں۔








