اسلام آباد۔16اکتوبر (اے پی پی):سٹیٹ بینک نے کہاہے کہ مالی سال 26ء کے دوران حقیقی جی ڈی پی نمو 3.25 سے 4.25 فیصد کے ابتدائی تخمینے کی نچلی حد کے قریب رہنے کی توقع ہے،مالی سال 2026 میں جاری کھاتوں کا خسارہ جی ڈی پی کے صفر سے ایک فیصد کی حد میں رہنے کاامکان ہے، مالیاتی خسارہ کم ہو کر مالی سال 25ء میں 9برسوں کی کم ترین سطح …
محتاط زری پالیسی موقف اور مالیاتی یکجائی کے تسلسل نے مالی سال 25ء میں کلی معیشت کے استحکام کو مزید مضبوط کیا، سٹیٹ بینک رپورٹ
اسلام آباد۔16اکتوبر (اے پی پی):سٹیٹ بینک نے کہاہے کہ مالی سال 26ء کے دوران حقیقی جی ڈی پی نمو 3.25 سے 4.25 فیصد کے ابتدائی تخمینے کی نچلی حد کے قریب رہنے کی توقع ہے،مالی سال 2026 میں جاری کھاتوں کا خسارہ جی ڈی پی کے صفر سے ایک فیصد کی حد میں رہنے کاامکان ہے، مالیاتی خسارہ کم ہو کر مالی سال 25ء میں 9برسوں کی کم ترین سطح جبکہ مہنگائی 8برسوں کی کم ترین 4.5 فیصد کی سطح پر آ گئی۔یہ بات بینک دولتِ پاکستان کی جانب سے ”پاکستانی معیشت کی کیفیت“پرجاری کردہ سالانہ رپورٹ برائے مالی سال 2024-25ء میں کہی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق محتاط زری پالیسی موقف اور مالیاتی یکجائی کے تسلسل نے مالی سال 25ء میں کلی معیشت کے استحکام کو مزید مضبوط کیا۔ اس کے علاوہ بحیثیتِ مجموعی میکرو اکنامک صورتِ حال میں بہتری کو اجناس کی سازگار عالمی قیمتوں اور آئی ایم ایف کی توسیعی فنڈ سہولت نے مزید سہارا دیا۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 25ء کے دوران خدمات کے شعبے اور مجموعی صنعتی سرگرمیوں میں بحالی کی بدولت حقیقی جی ڈی پی کی نمو بلند رہی۔ اہم فصلوں کی پیداوار میں کمی اور بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ میں سکڑاؤ کے باوجود ایسا دیکھنے میں آیا۔معاشی سرگرمیاں بڑھنے کے ساتھ درآمدات بھی بڑھ گئیں۔ دوسری جانب، غذائی اشیا کی عالمی قیمتوں میں کمی، عالمی تجارتی ماحول میں بے یقینی، اور بڑھتی ہوئی جغرافیائی اور سیاسی کشیدگی جیسے عوامل کے مجموعی اثرات نے مالی سال 25ء میں برآمدی نمو کو محدود کردیا۔ رپورٹ کے مطابق اس سے قطع نظر کارکنوں کی ترسیلات زر میں مضبوط نمو سے بڑھے ہوئے تجارتی خسارے کی بخوبی تلافی ہوگئی جس کے نتیجے میں مالی سال 25ء کے دوران جاری کھاتے میں قابل ذکر سرپلس آیا۔
جاری کھاتے میں بڑے سرپلس کے علاوہ، کثیر فریقی اور دو طرفہ قرض دہندگان کی جانب سے بیرونی رقوم کی آمد بڑھنے کی وجہ سے بازار مبادلہ میں استحکام آیا اور اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر بڑھ گئے۔ رپورٹ کے مطابق حکومت کی جانب سے مالیاتی یکجائی کی کوششوں کے تسلسل اور اسٹیٹ بینک کے منافع میں بھاری اضافے کی وجہ سے مالیاتی خسارہ کم ہو کر مالی سال 25ء میں 9برسوں کی کم ترین سطح پر آ گیا جبکہ بنیادی توازن میں سرپلس مسلسل دوسرے برس بجٹ تخمینے سے زائد رہا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ محتاط زری پالیسی اور مالیاتی یکجائی نے مالی سال 25ء کے دوران ملکی طلب کو قابو میں رکھا۔ اس کے ساتھ غذائی اجناس کی وافر رسد، مستحکم شرح مبادلہ، اجناس کی سازگار عالمی قیمتوں، اور توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات کے مثبت نتائج نے مالی سال 25ء کے دوران مہنگائی کو نمایاں طور پر کم کیا۔
مہنگائی مالی سال 24ء کے 23.4 فیصد سے کم ہو کر مالی سال 25ء میں آٹھ برسوں کی کم ترین سطح 4.5 فیصد پر آ گئی۔ مہنگائی میں کمی اور اس کے امکانات میں بہتری اور بیرونی کھاتے کی مضبوط پوزیشن کے نتیجے میں زری پالیسی کمیٹی نے جون 2024ء سے جون 2025ء تک پالیسی ریٹ کو مجموعی طور پر 1100 بی پی ایس کم کر دیا۔رپورٹ میں اس حوالے سے بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ مختلف ساختی مسائل نے ملک میں معاشی نمو کی صلاحیت کو کمزور کر دیا ہے، جن میں شرحِ بچت ایک نمایاں عنصر ہے، جس نے نجی اور سرکاری سرمایہ کاری دونوں کو محدود کر کے ترقی کی رفتار کو متاثر کیا ہے۔اسی پس منظر میں، رپورٹ میں ایک خصوصی باب شامل کیا گیا ہے جس کا عنوان ہے ”پاکستان میں بچت میں کمی کا چیلنج”۔ اس باب میں ایسے متعدد عوامل کی نشاندہی کی گئی ہے جنہوں نے ملک میں بچت کے رجحان کو متاثر کیا ہے۔
ان عوامل میں کم فی کس آمدنی، بلند شرحِ مہنگائی، ضخیم مالیاتی عدم توازن، وسیع بے ضابطہ معیشت، نوجوان آبادی پر انحصار کی بلند شرح، نیز ثقافتی و رویہ جاتی رکاوٹیں شامل ہیں۔خصوصاً گذشتہ برسوں میں جاری مسلسل بلند مالیاتی خسارے نے ملک میں نجی اور سرکاری دونوں سطحوں پر بچت اور سرمایہ کاری کو محدود کر دیا ہے۔ مزید برآں، خسارے پورے کرنے کے لئے حکومت کا بینکوں پر انحصار ہے، جو اکثر نجی شعبے کے قرضے کے حصول کو متاثر) کرتا ہے۔ ان دیرینہ مسائل کے علاوہ، موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات نے نہ صرف پیداواری سرگرمیوں میں خلل ڈالا ہے بلکہ مالی اور بیرونی اکاؤنٹس پر دباؤ میں بھی نمایاں اضافہ کیا ہے۔اسی طرح، سیاسی اور معاشی عدم استحکام کے بار بار پیش آنے والے واقعات، ٹیکس کی بلند شرحیں، پیچیدہ ٹیکس قوانین و ضوابط، لاجسٹک رکاوٹیں، غیر ضروری بوجھل ضوابط، اور امن و امان کی مشکل صورتِ حال نے وقت کے ساتھ ساتھ ملک میں سرمایہ کاری کے ماحول کو متاثر کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ان ساختی مسائل کے حل کے لئے مربوط پالیسی اقدامات اور اصلاحات ناگزیر ہیں تاکہ ملک کو پائیدار اور تیز رفتار معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔رپورٹ اس بات پر روشنی ڈالتی ہے کہ بحیثیت مجموعی مستحکم میکرو اکنامک حالات اور محتاط زری و مالیاتی پالیسی کے امتزاج نے کاروباری اداروں اور گھرانوں کا اعتماد بحال کیا۔
بیرونی کھاتے کی صورت حال میں استحکام، جاری مالیاتی یکجائی اور آئی ایم ایف کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت نافذ کی گئی اصلاحات کی بدولت تین بڑی بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے اپریل تا اگست 2025ء کے دوران پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کو بہتر کیا۔ تاہم، سیلاب سے زراعت اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات مجموعی میکرو اکنامک منظر نامے کے لئے چند خطرات پیدا کرسکتے ہیں۔سیلاب نے خریف کی فصلوں کے وسیع زیرِ کاشت رقبے کو ڈبو دیا ہے جس سے زرعی نمو متاثر ہو سکتی ہے۔سیلاب کی وجہ سے رسدی زنجیر میں بھی خلل آسکتا ہے اور زراعت سے چلنے والی صنعتوں کے لیے زرعی خام مال کی دستیابی کم ہوسکتی ہے۔ تاہم پالیسی ریٹ میں نمایاں کمی کے تاخیری اثرات سے توقع ہے کہ وہ معاشی سرگرمیوں میں تحرّک کو سہارا دیں گے۔ لہٰذا،مالی سال 26ء کے دوران حقیقی جی ڈی پی نمو 3.25 سے 4.25 فیصد کے ابتدائی تخمینے کی نچلی حد کے قریب رہنے کی توقع ہے۔ رپورٹ کے مطابق معاشی سرگرمیوں میں معتدل اضافے اور سیلاب کی وجہ سے زرعی اجناس کی قلت درآمدات میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔
دوسری طرف، عالمی طلب میں سست روی اور زرعی پیداوار کو پہنچنے والے نقصانات کے سبب امکان ہے کہ برآمدات محدود رہیں گی تاہم، کارکنوں کی ترسیلات زر میں تسلسل کی بدولت مالی سال 26ء میں جاری کھاتے کا خسارہ جی ڈی پی کے صفر سے ایک فیصد کی حد میں رہنے کا امکان ہے۔ مزید برآں سیلاب کی وجہ سے تلف پذیر غذائی اجناس کی قلت، غذائی مہنگائی پر عارضی اثرات مرتب کرسکتی ہے۔ اس کے علاوہ، موافق اساسی اثر کے بتدریج خاتمے کی وجہ سے غذا اور توانائی کی مہنگائی میں بھی اضافے کا امکان ہے۔
یہ عوامل مالی سال 26ء کی دوسری ششماہی میں مہنگائی کو وسط مدتی ہدف کی حد 5.0 سے 7.0 فیصد کی بالائی سطح سے بڑھانے کا سبب بن سکتے ہیں تاہم ملکی طلب بدستور محدود رہنے اور اس کے ساتھ اجناس کی سازگار عالمی قیمتوں کے باعث مضمر مہنگائی قابو میں رہنے کی توقع ہے چنانچہ یہ عوامل مالی سال 27ء میں مہنگائی کو وسط مدتی ہدف کی جانب لے جانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔









