امیگریشن محض نقل مکانی نہیں، باصلاحیت افراد کی مہارت اور علم کے تبادلے کا ذریعہ ہے، امیگریشن ماہر ابو بکر عادل

طارق انجم اسلام آباد۔18اکتوبر (اے پی پی):پاکستان کی افرادی قوت آج دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں اور قابلیت کا لوہا منوا رہی ہے۔ کارپوریٹ اداروں ، اسپتالوں اور تحقیقی لیبارٹریوں میں پاکستانی ماہرین ایسے اہم کردار ادا کر رہے ہیں جو عالمی سطح پر حقیقی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ یہ رجحان محض وطن چھوڑنے کا نہیں بلکہ پاکستان کے اثر و رسوخ کو قانونی، میرٹ پر مبنی اور منظم …

طارق انجم

اسلام آباد۔18اکتوبر (اے پی پی):پاکستان کی افرادی قوت آج دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں اور قابلیت کا لوہا منوا رہی ہے۔ کارپوریٹ اداروں ، اسپتالوں اور تحقیقی لیبارٹریوں میں پاکستانی ماہرین ایسے اہم کردار ادا کر رہے ہیں جو عالمی سطح پر حقیقی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ یہ رجحان محض وطن چھوڑنے کا نہیں بلکہ پاکستان کے اثر و رسوخ کو قانونی، میرٹ پر مبنی اور منظم راستوں کے ذریعے دنیا تک بڑھانے کا ہے وہ راستے جو تعلیم، تحقیق اور پیشہ ورانہ مہارتوں کو عالمی سطح پر عملی اثر میں بدل دیتے ہیں۔

اس سلسلے میں افرادی قوت اور طلبہ کو بیرونِ ملک تعلیم اور روزگار کے منظم مواقع فراہم کرنے کے لیے حکومت اور نجی شعبہ کے متعدد اقدامات کا ذکر بہت اہم ہے جو نوجوانوں کو عالمی معیار کی تربیت فراہم کررہے ہیں۔ امیگریشن کے ماہر اور ایجوکیشن کنسلٹنٹ ابو بکر عادل کا کہنا ہے کہ ان کے نزدیک قیادت، علم کے تبادلے اور قومی شناخت کے فروغ کیلئے امیگریشن ایک منظم راستہ ہے تاکہ افرادی قوت بیرونِ ملک جا کر نہ صرف اپنے مستقبل کو سنواریں بلکہ پاکستان کی پہچان کو مضبوط کریں۔

یہی وہ مثبت سوچ ہے جو ہجرت کو محض نقل مکانی نہیں بلکہ قومی ترقی کا ذریعہ بناتی ہے۔ ابو بکر عادل جو سپیریئر کنسلٹنگ گلوبل میں ڈائریکٹر آپریشنزہیں، نے ایک جدید، نتیجہ خیز طریقہ اختیار کیا ہے جو عزم کو ذمہ داری سے جوڑتا ہے۔ایسے شعبے میں جہاں دعووں اور وعدوں کی بھرمار ہے وہاں ایک متوازن اور سنجیدہ آواز کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے۔ سرخیوں میں مقابلہ کرنے کے بجائے ابو بکر عادل اس محنت پر توجہ دیتے ہیں جو اصل میں نتائج دیتی ہے جیسے امیدواروں کے پروفائل کا باریک بینی سے جائزہ لینا، دیانت دارانہ ٹائم لائنز دینا اور ہر ملک کی پالیسی کے مطابق درست دستاویزات تیار کرنا شامل ہے۔

محض مقبول اصطلاحات کے پیچھے بھاگنے کے بجائے ابو بکر عادل کا کہنا ہے کہ بیرون ملک جانے کے خواہشمند افراد کو سکھایاجاتا ہے کہ وہ ایسے ثبوت اور شواہد مرتب کریں جو عالمی سطح پر قابلِ اعتبار ہوں جیسے ایسے فیچرز جو حقیقتا صارفین پر اثر ڈالیں، اوپن سورس منصوبوں میں حصہ داری، تحقیقی حوالہ جات، کانفرنس تقاریر اور ایسی سفارشات جو ساتھی پیشہ ور افراد کے احترام کو ظاہر کریں۔ نتائج کو سادہ زبان میں دستاویزی شکل دیں اور اپنی کامیابیوں کو ان معیاروں سے ہم آہنگ کریں جوہنرمندی یا میرٹ پر مبنی ہوں ۔ مقصد یہ نہیں کہ اپنی صلاحیتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے بلکہ کام وہی ہے جو خود سر چڑھ کربولے جو فیصلہ کرنے والے اداروں کو قابلِ بھروسہ لگے۔

ڈاکٹروں اور معاون طبی ماہرین کے لیے بھی یہی عملی اور حقیقت پسندانہ طریقہ اپنایا جاتا ہے۔ ابو بکر عادل کا کہنا ہے کہ خصوصی تربیت،آڈٹ رپورٹس، سی پی ڈی ریکارڈز اور مریضوں کے نتائج کو اس ملک کے رجسٹریشن کے تقاضوں کے مطابق ترتیب دیا جائے یعنی شارٹ کٹس سے گریز کرتے ہوئے قابلِ تصدیق معیار پر توجہ دیں۔جہاں مناسب ہو، وہ ایسے راستے تجویز کرتے ہیں جو مزید تعلیم اور زیرِ نگرانی عملی تربیت کو یکجا کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس سوچ کا نتیجہ ایک زیادہ ہموار اور ذمہ دار منتقلی کی صورت میں نکلتا ہے جو نہ صرف پیشہ ورانہ اخلاقیات کو مرکز میں رکھتی ہے بلکہ بیرونِ ملک رہتے ہوئے بھی پاکستان کے تدریسی اسپتالوں اور کمیونٹی کلینکس سے مضبوط تعلق قائم رکھتی ہے۔

ابو بکر عادل کا کہنا ہے کہ احتیاط نہ صرف خاندانوں کو غیر ضروری اخراجات اور ذہنی دبائو سے بچاتی ہے بلکہ بیرونِ ملک پاکستانی پیشہ ور افراد کی ساکھ کو بھی محفوظ رکھتی ہے۔ ابو بکر عادل کا موقف ہے کہ غیر یقینی یا کمزور بنیادوں پر فائل کی جانے والی درخواستیں نہ صرف درخواست دہندہ کے لیے نقصان دہ ہوتی ہیں بلکہ پورے نظام کے اعتماد کو بھی متاثر کرتی ہیں۔امیگریشن کے اس شعبے میں جہاں اکثر غیر حقیقی امیدیں حقائق سے آگے بڑھ جاتی ہیں، ابو بکر عادل کا حقیقت پسندانہ رویہ انہیں نمایاں بناتا ہے۔

وہ ہر امیدوار کی توقعات کو پالیسی کے عملی دائرے میں رکھتے ہیں اور جہاں ممکن ہو، انہیں ایسے تیاری کے مراحل کی طرف رہنمائی کرتے ہیں جو مستقبل میں کامیابی کے امکانات کو بڑھا سکیں۔ان کی یہ سوچ امیگریشن مشاورت میں اعتماد، شفافیت اور ذمہ داری کا ایک نیا معیار قائم کر رہی ہے جو نہ صرف امیدواروں بلکہ پاکستان کے بین الاقوامی تشخص کے لیے بھی مثبت قدم ہے۔اس مثبت تبدیلی کے اثرات سرحد کے دونوں جانب محسوس کیے جا رہے ہیں۔ جب کوئی سافٹ ویئر انجینئر عالمی ٹیم کا حصہ بنتا ہے تو اس کا فائدہ ملک کو پہنچتا ہے ۔

جب کوئی ڈاکٹر اعلی تربیت مکمل کرتا ہے تو وہ مقامی اسپتالوں میں نئے طریقہ کار اور تدریسی انداز منتقل کرتا ہے اور جب کوئی نوجوان بانی اپنی پروڈکٹ کو بین الاقوامی منڈی میں کامیابی سے منواتا ہے تو اس کے نتیجے میں پاکستانی سپلائرز اور انجینئرز کو براہِ راست فائدہ پہنچتا ہے۔ یہ سب کسی شور شرابے کے بغیر، صرف قانونی اور مہارت پر مبنی راستوں کے ذریعے ممکن ہو رہا ہے جو پاکستان کے پیشہ ورانہ نقش قدم کو عالمی سطح پر وسیع کر رہے ہیں۔

ابو بکر عادل اس پیغام کو عام کرنے کے لیے میڈیا، پوڈکاسٹس اور ڈیجیٹل فورمز پر سادہ اور واضح انداز میں اہلیت، دستاویزات اور ٹائم لائنز کی وضاحت کرتے ہیں۔ ان کا مقصد سب سے بڑا نام بننا نہیں بلکہ شفافیت اور اخلاقیات کا معیار بلند کرنا ہے، تاکہ امیدوار بغیر دبائو کے بہتر فیصلے کر سکیں۔ ان کا ماننا ہے کہ کامیابی کا تعلق تعداد سے نہیں بلکہ معیار سے ہے یہی وجہ ہے کہ وہ مہارت پر مبنی نقل و حرکت کو زیادہ منظم، ایماندار اور مثر بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ان کی یہی سوچ پاکستان کے پیشہ ور افراد، اداروں اور ملک کی ساکھ تینوں کے لیے ایک قابلِ اعتماد پل ثابت ہو رہی ہے۔

 

مزید خبریں