برازیل کا آزاد و خودمختار لاطینی امریکا کا مطالبہ

ساؤ پالو۔19اکتوبر (اے پی پی):برازیل کے صدر لوئز اناسیو لولا ڈا سلوا نے کہا ہے کہ وہ کسی دوسرے ملک کے کسی بھی رہنما کو برازیل کے ساتھ "غرور یا تحقیر آمیز لہجے" میں بات کرنے کی اجازت نہیں دیں گےاور انہوں نے ایک "لاطینی امریکی نظریے" کے قیام کی حمایت کی تاکہ خطے کو بیرونی دباؤ سے آزاد اور خودمختار بنایا جا سکے۔ شنہوا کے مطابق انہوں نے کہاکہ …

ساؤ پالو۔19اکتوبر (اے پی پی):برازیل کے صدر لوئز اناسیو لولا ڈا سلوا نے کہا ہے کہ وہ کسی دوسرے ملک کے کسی بھی رہنما کو برازیل کے ساتھ "غرور یا تحقیر آمیز لہجے” میں بات کرنے کی اجازت نہیں دیں گےاور انہوں نے ایک "لاطینی امریکی نظریے” کے قیام کی حمایت کی تاکہ خطے کو بیرونی دباؤ سے آزاد اور خودمختار بنایا جا سکے۔

شنہوا کے مطابق انہوں نے کہاکہ ہم ایک لاطینی امریکی نظریہ تشکیل دینا چاہتے ہیں، لاطینی امریکی اساتذہ اور طلبہ کے ساتھ، تاکہ ہم ایک ایسے آزاد براعظم کا خواب دیکھ سکیں، جہاں آئندہ کوئی غیر ملکی صدر برازیل سے غرور کے ساتھ بات کرنے کی جرات نہ کرے — کیونکہ ہم اسے برداشت نہیں کریں گے۔خودمختاری کے دفاع کے حوالے سے لولا نے کہا کہ یہ جرات کا نہیں بلکہ "عزت نفس اور کردار” کا معاملہ ہے۔

ان کے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب برازیل اور امریکہ کے تعلقات میں حالیہ مہینوں میں کشیدگی کے بعد بہتری کے آثار ظاہر ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ اگست کے آغاز سے امریکی حکومت نے برازیلی مصنوعات پر 50 فیصد تک کے اضافی محصولات عائد کیے تھے۔

مزید خبریں