اسلام آباد۔19اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (پی این سی اے) نے داستان تھیٹر کے اشتراک سے طاقتور تھیٹر پروڈکشن "بلکرا" پیش کی جسے فنونِ لطیفہ سے وابستہ شخصیات، سماجی کارکنوں اور ناظرین کی جانب سے بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی۔"بلکرا" ایک جرات مندانہ اور سوچ انگیز ڈرامہ ہے جو معاشرے کی دو انتہائی حساس اور تکلیف دہ حقیقتوں بچوں کے اغوا و استحصال اور ٹرانس جینڈر کمیونٹی …
پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس میں تھیٹر پروڈکشن "بلکرا” پیش ، فنونِ لطیفہ سے وابستہ شخصیات، سماجی کارکنوں اور ناظرین کی بھرپور پذیرائی

مزید خبریں
اسلام آباد۔19اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (پی این سی اے) نے داستان تھیٹر کے اشتراک سے طاقتور تھیٹر پروڈکشن "بلکرا” پیش کی جسے فنونِ لطیفہ سے وابستہ شخصیات، سماجی کارکنوں اور ناظرین کی جانب سے بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی۔”بلکرا” ایک جرات مندانہ اور سوچ انگیز ڈرامہ ہے جو معاشرے کی دو انتہائی حساس اور تکلیف دہ حقیقتوں بچوں کے اغوا و استحصال اور ٹرانس جینڈر کمیونٹی کو درپیش امتیازی سلوک کو اجاگر کرتا ہے۔
جذبات سے لبریز اور دل دہلا دینے والے مناظر کے ذریعے ڈرامہ ناظرین کو اس تلخ سچائی کا سامنا کراتا ہے کہ سماجی بے حسی اور خاموشی اکثر ظلم کی سب سے بڑی حامی بن جاتی ہیں۔مرکزی کردار "موجو” طاقت، خوف، منافقت اور جبر کی علامت ہےجو اُس سیاہ پہلو کی نمائندگی کرتا ہے جو نظر تو نہیں آتا مگر ہر ادارے، طبقے اور ضمیر میں سرایت کئے ہوئے ہے۔
مذہبی، اخلاقی اور سماجی تضادات کو بے نقاب کرتے ہوئے ڈرامہ دکھاتا ہے کہ یہی معاشرہ کسی گانے کو گناہ قرار دیتا ہے مگر جب وہی گیت عقیدت کے لبادے میں لپٹا ہو تو مقدس بنا دیا جاتا ہے،یہ دوہرا معیار سچ اور انصاف کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔”بلکرا” ایک تجرباتی تھیٹر پروڈکشن ہے جو پرسینیم، ایجوکیشنل اور تھرڈ تھیٹر کے عناصر کو یکجا کرتی ہے اور فنِ اداکاری کی ایک منفرد جہت سامنے لاتی ہے۔ یہ صرف تفریح نہیں بلکہ سماجی احتجاج کی ایک صورت ہے،ایک ایسی پکار جو بچوں اور ٹرانس جینڈر کمیونٹی کی خاموش اذیت کو زبان دیتی ہے۔
پرفارمنس کے اختتام پر ناظرین نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں اور ڈرامے کے پیغام کو "روح کو جھنجھوڑ دینے والا” قرار دیا۔اس موقع پر ڈائریکٹر ارشد منہاس نے کہا کہ بلکرا صرف کہانی سنانے کے لیے نہیں بلکہ اُن گوشوں کو بے نقاب کرنے کے لیے ہے جنہیں ہم دیکھ کر بھی نظرانداز کر دیتے ہیں۔ فن کا اصل کام سوال اٹھانا اور انسانی ضمیر کو جھنجھوڑنا ہے۔پی این سی اے اور داستان تھیٹر کی یہ مشترکہ پیشکش فنونِ لطیفہ کی کامیابی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سماجی بیداری کی للکار بھی ہے۔ایک طاقتور یاددہانی کہ فن، انصاف اور انسانیت ایک دوسرے سے جدا نہیں۔








