قذافی سے پیسے لینے کا جُرم ثابت، سابق فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی آج جیل جائیں گے

پیرس۔21اکتوبر (اے پی پی):فرانس کے سابق صدر نکولس سرکوزی کو 2007 میں صدارتی انتخابات کے لیے لیبیا سے فنڈز لینے کے جرم میں آج( منگل کو) جیل بھیجا جائے گا۔اردو نیوز کے مطابق دائیں بازو سے تعلق رکھنے اور 2007 سے 2012 تک ملک کے صدر رہنے والے نکولس سرکوزی کو ستمبر میں اپنی انتخابی مہم کے لیے لیبیا کے رہنما کرنل معمر قذافی سے رقوم حاصل کرنےکے جرم میں …

پیرس۔21اکتوبر (اے پی پی):فرانس کے سابق صدر نکولس سرکوزی کو 2007 میں صدارتی انتخابات کے لیے لیبیا سے فنڈز لینے کے جرم میں آج( منگل کو) جیل بھیجا جائے گا۔اردو نیوز کے مطابق دائیں بازو سے تعلق رکھنے اور 2007 سے 2012 تک ملک کے صدر رہنے والے نکولس سرکوزی کو ستمبر میں اپنی انتخابی مہم کے لیے لیبیا کے رہنما کرنل معمر قذافی سے رقوم حاصل کرنےکے جرم میں پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

70 سالہ سابق صدر نے فیصلے کے خلاف اپیل کی اور اس کو ناانصافی قرار دیا ہے، ان کو پیرس کی لا سانٹے جیل میں رکھا جائے گا۔

انہوں نے 25 ستمبر کو فیصلہ آنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ اگر یہ واقعی مجھے جیل ڈالنا چاہتے ہیں تو میں یہ عزم کے ساتھ برداشت کر لوں گا۔سابق سربراہ مملکت کے اہل خانہ کی جانب سے ان کے حامیوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ان کے لیے آواز اٹھائیں۔وہ فیلپ پیٹین کے بعد پہلے فرانسیسی رہنما ہوں گے جن کو جیل بھیجا گیا، فیلپ پیٹین پر نازی ریاست کے ساتھ تعاون کا الزام تھا اور ان کو دوسری عالمی جنگ کے بعد جیل بھیجا گیا تھا۔

جیل کے عملے نے بتایا کہ ان کو نو مربع میٹر کے سیل میں قید تنہائی میں رکھا جا سکتا ہے۔عملے کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سیل میں رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کسی قیدی کے ساتھ بات چیت نہیں کر سکیں گے اور ان کی کوئی تصویر بھی نہیں لی جا سکے گی۔

قید تنہائی میں رکھے جانے والے قیدیوں کو دن میں ایک بار سیل سے باہر نکالا جاتا ہے تاہم اس دوران بھی وہ چھوٹے سے صحن میں تنہا رہتے ہیں۔اس بارے میں زیادہ وضاحت موجود نہیں ہے کہ وہ کب تک جیل میں رہیں گے۔جج نتھالی گاوارینو نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ جرائم غیرمعمولی نوعیت کے تھے اس لیے سابق صدر کو جیل بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے ۔دوسری جانب نکولس سرکوزی کے وکلا سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ ان کے جیل جانے کے فوری بعد ہی رہائی کے لیے درخواست دائر کر دیں گے اور اپیل کورٹ کے پاس اس کا جائزہ لینے کے لیے دو ماہ کا وقت ہو گا۔

مزید خبریں