راولپنڈی۔23اکتوبر (اے پی پی):جنوبی افریقہ کے فاسٹ باؤلر کاگیسو ربادا نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف جیت نے ٹیم کا اعتماد بحال کر دیا ہے اور یہ کامیابی نوجوان کھلاڑیوں کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہو گی۔ راولپنڈی ٹیسٹ میں فتح کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے ربادا نے کہا کہ پاکستان کا دورہ کبھی آسان نہیں ہوتا، خاص طور پر یہاں کے اسپنرز کو کھیلنا ایک بڑا چیلنج …
پاکستان کے خلاف جیت نے ٹیم کا اعتماد بحال کیا ،یہاں کاکراؤڈ بہت پرجوش اور مہمان نواز ہیں، فاسٹ باؤلر کاگیسو ربادا

مزید خبریں
راولپنڈی۔23اکتوبر (اے پی پی):جنوبی افریقہ کے فاسٹ باؤلر کاگیسو ربادا نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف جیت نے ٹیم کا اعتماد بحال کر دیا ہے اور یہ کامیابی نوجوان کھلاڑیوں کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہو گی۔ راولپنڈی ٹیسٹ میں فتح کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے ربادا نے کہا کہ پاکستان کا دورہ کبھی آسان نہیں ہوتا، خاص طور پر یہاں کے اسپنرز کو کھیلنا ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برصغیر میں ٹیسٹ میچ جیتنا ہمیشہ بڑی بات سمجھی جاتی ہے کیونکہ یہاں کی وکٹیں اور حالات خاصے مختلف ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کراؤڈ بہت پرجوش ہوتا ہے، ٹاس کا کردار فیصلہ کن ہوتا ہے اور دونوں ٹیسٹ میچوں کی پچز اچھی تیار کی گئی تھیں تاہم راولپنڈی کی وکٹ پر باؤلنگ کا مزہ زیادہ آیا۔
ربادا نے کہا کہ جنوبی افریقہ کی ٹیم نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے اور پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں جارحانہ کرکٹ کھیلنے کا ہی منصوبہ بنایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا دورہ کرنا میرے لیے بہت خاص رہا۔ کاگیسو ربادا، جنہوں نے صرف 61 گیندوں پر 71 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی، نے اپنی بیٹنگ سے قبل پیش آنے والا دلچسپ واقعہ بھی شیئر کیا اور کہا کہ جب وہ بیٹنگ کے لیے جا رہے تھے تو ساتھی کھلاڑی ڈیوالڈ بریوس نے کہا اگر تم 30 رنز بنا لو تو میں تمہیں نیا بیٹ دوں گا، میرا ارادہ یہی تھا کہ فرنٹ فٹ پر کھیلوں اور رنز بناؤں۔
دوسری جانب اسی میچ میں 1000 فرسٹ کلاس وکٹیں مکمل کرنے والے اسپنر سائمن ہارمر نے کہا کہ پانچ وکٹیں حاصل کرنا ہمیشہ میچ کا رخ بدل سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں اصل مقصد زیادہ سے زیادہ میچ جیتنا ہے۔ سائمن ہارمر نے کہا کہ پاکستان میں کھیلنا ان کے لیے ایک یادگار تجربہ رہا۔ یہ ایک خوبصورت ملک ہے، یہاں کے پہاڑ دلکش ہیں اور عوام بہت مہمان نواز ہیں۔ ہم نے خود کو یہاں مکمل طور پر محفوظ محسوس کیا اور سیریز کا 1-1 پر اختتام ہمارے لیے باعث اطمینان ہے۔








