اسلام آباد۔25اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے پولینڈ کے نائب وزیر داخلہ میچے ڈشچک نے ملاقات کی اورغیر قانونی امیگریشن، بارڈر سکیورٹی اور میوچل لیگل اسسٹنٹس سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق اورباہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کیلئے حکومتی سطح پر روابط بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ہفتہ کو وزارت داخلہ سے جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے پولینڈ کے نائب …
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے پولینڈ کے نائب وزیر داخلہ میچے ڈشچک کی ملاقات، باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا عزم

مزید خبریں
اسلام آباد۔25اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے پولینڈ کے نائب وزیر داخلہ میچے ڈشچک نے ملاقات کی اورغیر قانونی امیگریشن، بارڈر سکیورٹی اور میوچل لیگل اسسٹنٹس سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق اورباہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کیلئے حکومتی سطح پر روابط بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ہفتہ کو وزارت داخلہ سے جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے پولینڈ کے نائب وزیر داخلہ میچے ڈشچک نے ملاقات کی۔وزیر داخلہ محسن نقوی نے وزارت داخلہ آمد پر پولینڈ کے نائب وزیر داخلہ میچے ڈشچک کاخیر مقدم کیا۔
وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری اور پولینڈ میں پاکستان کے سفیر محمد سمیع بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ملاقات میں دونوں ممالک کےمابین دو طرفہ تعلقات سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں غیر قانونی امیگریشن، بارڈر سکیورٹی اور میوچل لیگل اسسٹنٹس سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کیلئے حکومتی سطح پر روابط بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ غیر قانونی امیگریشن پاکستان کیلئے بھی انتہائی حساس مسئلہ ہے، غیر قانونی امیگریشن میں ملوث مافیا کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے۔
سمندری بارڈر کو محفوظ بنانے کیلے کوسٹ گارڈز کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔پولینڈ کے نائب وزیر داخلہ نے وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری کو پولینڈ کے دورہ کی دعوت دی۔پولش نائب وزیر داخلہ نے کہا کہ انسانی سمگلنگ کو روکنے کیلئے ہمیں ایک قدم آگے رہنا ہو گا۔ انہوں نے انسانی سمگلنگ کے تدارک کے سلسلے میں حکومت پاکستان کے اقدامات کو سراہا۔ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ میجر جنرل نور ولی خان اور چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا بھی اس موقع پر موجود تھے ۔








