اسلام آباد۔26اکتوبر (اے پی پی):پاکستان کی نیشنل پروڈکٹیویٹی آرگنائزیشن (این پی او) نے جاپان کی ایشین پروڈکٹیویٹی آرگنائزیشن (اے پی او) کے اشتراک سے اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں دو روزہ بین الاقوامی ورکشاپس منعقد کیں۔ یہ ورکشاپس "آئی ایس او 56000 انوویشن منیجمنٹ سسٹم کے ذریعے اداروں میں جدت طرازی کی صلاحیت میں اضافے" سے متعلق تھیں۔ این پی او ملک بھر کے سرکاری اور نجی شعبوں کے …
این پی او پاکستان کی جانب سے جِدت طرازی کی صلاحیت میں اضافے سے متعلق ورکشاپ کا انعقاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔26اکتوبر (اے پی پی):پاکستان کی نیشنل پروڈکٹیویٹی آرگنائزیشن (این پی او) نے جاپان کی ایشین پروڈکٹیویٹی آرگنائزیشن (اے پی او) کے اشتراک سے اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں دو روزہ بین الاقوامی ورکشاپس منعقد کیں۔ یہ ورکشاپس "آئی ایس او 56000 انوویشن منیجمنٹ سسٹم کے ذریعے اداروں میں جدت طرازی کی صلاحیت میں اضافے” سے متعلق تھیں۔
این پی او ملک بھر کے سرکاری اور نجی شعبوں کے اداروں میں مہارت اور جدت طرازی پر مبنی صلاحیت میں اضافے کے فروغ کیلئے کام کررہی ہے۔یہ ورکشاپس پاکستان انجینئرنگ کونسل اور پاکستان انسٹیٹیوٹ آف کوالٹی کنٹرول کے اشتراک سے منعقد کی گئیں۔سیشنز میں جرمنی سے تعلق رکھنے والے دو معروف بین الاقوامی ماہرین نے گفتگو کی۔ ماہرین نے منیجمنٹ سسٹم کو اداروں کا حصہ بنانے، جدت پسندی کو فروغ دینے اور ادارہ جاتی و تنظیمی حکمت عملی کو آئی ایس او 56000 انوویشن منیجمنٹ معیار کے مطابق ترتیب دینے کے لائحہ عمل سے متعلق اپنے تجربات بیان کیے۔
ورکشاپس میں مختلف نجی و سرکاری اداروں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی جن میں متعلقہ وفاقی وزارتیں اور ان سے منسلک محکمے اور تنظیمیں شامل تھیں۔ بالخصوص وزارتِ صنعت و پیداوار، وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی، وزارتِ منصوبہ بندی اور خصوصی اقدامات، اور دیگر اہم قومی اداروں بشمول پی ایس کیو سی اے، پی ایچ اے اور سمیڈا نے شرکت کی۔دو روز جاری رہنے والی ورکشاپس میں شرکا کو آئی ایس او 56000 انوویشن منیجمنٹ سسٹم کے بنیادی اصولوں اور طریقہ کار سے متعارف کرایا گیا۔
شرکا میں سرٹیفکیٹس تقسیم بھی کیے گئے۔ اس موقع پر شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے اداروں میں جدیدیت اور معیاری کام کو فروغ دیں گے۔مختلف شہروں میں ہونے والی یہ ورکشاپس ملک میں علم کی بنیاد پر پیداوار، ڈیجیٹل تبدیلیوں اور پائیدار معاشی ترقی کی طرف پیش قدمی کا ثبوت ہیں۔







