اسلام آباد-تہران-استنبول ٹرین سروس 31 دسمبر تک بحال کرنے کی کوششیں تیزی سے جاری ہیں،محمد حنیف عباسی

لاہور۔26اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان ریلوے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور مسافروں کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے کامیابی سے پیش رفت جاری ہے۔ اتوار کو ریلوے ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کئی بڑے ترقیاتی منصوبوں اور اقدامات کا اعلان کیا جن کا مقصد ریل نیٹ ورک کو جدید خطوط پر تبدیل …

لاہور۔26اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان ریلوے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور مسافروں کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے کامیابی سے پیش رفت جاری ہے۔ اتوار کو ریلوے ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کئی بڑے ترقیاتی منصوبوں اور اقدامات کا اعلان کیا جن کا مقصد ریل نیٹ ورک کو جدید خطوط پر تبدیل کرنا ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ اسلام آباد-تہران-استنبول ٹرین سروس 31 دسمبر تک بحال کرنے کی کوششیں تیزی سے جاری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ازبکستان کے ساتھ ایک معاہدے کے بعد قازقستان کے ساتھ بھی اسی طرح کے معاہدے کو حتمی شکل دی جا رہی ہے، جس کے تحت چمن تک مال بردار ٹرین چلائی جائے گی، جو موجودہ ریلوے لائن سے کراچی سے منسلک ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ اس سے وسطی ایشیا اور یورپ کے ساتھ تجارتی روابط بڑھانے کی راہ ہموار ہوگی۔

انہوں نے ریکوڈک منصوبے کے لیے 400 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک کی تعمیر کا اعلان کیا، جس میں مجموعی طور پر 884 کلومیٹر پر محیط اپ گریڈیشن کا کام ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی خصوصی دلچسپی کی بدولت 500 کلومیٹر طویل روہڑی-کراچی ٹریک کو بہتر بنانے کے لیے 2 ارب روپے کے منصوبے کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ بھی بات چیت جاری ہے، جس کا سنگ بنیاد آئندہ سال جولائی تک متوقع ہے۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ مین لائن-2 اور روہڑی-پشاور سیکشن بھی مستقبل میں بہتری کے لیے زیر غور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی ریلوے سٹیشن کو لاہور سٹیشن سے زیادہ بڑے اور جدید سہولتوں کے ساتھ دوبارہ تیار کر کے موثر انتظام کے لیے آئوٹ سورس کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 7 نومبر کو اپ گریڈ کی گئی شالیمار ایکسپریس کے افتتاح کے لیے وزیر اعظم کو درخواست بھیجی گئی ہے، جبکہ عوامی ایکسپریس، رحمان بابا ایکسپریس اور علامہ اقبال ایکسپریس کو بھی جدید کچن، ڈائننگ کاروں اور اعلی معیار کے کھانے کے ساتھ اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے کارگو ایکسپریس سے 3.5 بلین روپے سے زیادہ کی آمدنی متوقع ہے اور مسافروں کی آمدنی کے ذریعے سبسڈی دینے کے بجائے فریٹ آپریشن کو بین الاقوامی معیار کے مطابق کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ سال23 مارچ تک مقامی طور پر تیار کردہ 160 ویگنوں کو سسٹم میں شامل کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر نے مزید اعلان کیا کہ بادامی باغ میں ریلوے کے 26 کمرشل پلاٹ کھلی بولی کے ذریعے نیلام کئے جائیں گےجبکہ 48 گوداموں کو آئوٹ سورس کیا جائے گا۔ ڈرائیورز اور گارڈز کے لیے 10 رننگ رومز کی تزئین و آرائش فروری تک مکمل کر لی جائے گی اور سٹاف کوارٹرز کی مرمت اور سکھر، لودھراں اور روہڑی اسٹیشنوں کی اپ گریڈیشن پر 800 ملین روپے خرچ کئے جائیں گے۔

راولپنڈی ریلوے اسٹیشن پر نگرانی کو مضبوط بنانے کے لیے 180 سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے جائیں گے۔ بدعنوانی، ڈیزل چوری، بوگس الاٹمنٹ، گھوسٹ ملازمین اور بغیر ٹکٹ سفر سے نمٹنے کیلئے ویجی لینس ڈیپارٹمنٹ کو بھی فعال کر دیا گیا ہے۔