اسلام آباد۔26اکتوبر (اے پی پی):حکومتِ پاکستان نے ملک بھر اور آزاد جموں و کشمیر میں کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے کل پیر کو یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے تاکہ مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی غیر قانونی قبضے کے خلاف احتجاج کیا جا سکے۔ وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت پر اس سلسلے میں ایک نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے جس کے مطابق …
حکومت کا ملک بھر اور آزاد جموں و کشمیر میں کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیلئے27اکتوبرکو یوم سیاہ منانے کا اعلان

مزید خبریں
اسلام آباد۔26اکتوبر (اے پی پی):حکومتِ پاکستان نے ملک بھر اور آزاد جموں و کشمیر میں کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے کل پیر کو یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے تاکہ مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی غیر قانونی قبضے کے خلاف احتجاج کیا جا سکے۔
وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت پر اس سلسلے میں ایک نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے جس کے مطابق کل پیر کو صبح 10 بجے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی تاکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا جا سکے۔ہر سال دنیا بھر میں اور لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف کے کشمیری 27 اکتوبر کو ’’یوم سیاہ‘‘ کے طور پر مناتے ہیں۔ یہ وہ دن ہے جب 1947 میں بھارتی فوجیوں نے سری نگر میں اتر کر جموں و کشمیر پر غیر قانونی قبضہ کیا تھا۔
یہ دن اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو آج تک ان کا حقِ خودارادیت نہیں دیا گیااور ان سے کیے گئے وعدے اب تک پورے نہیں ہوئے۔پاکستان اور کشمیری قیادت نے اس اقدام کو مسترد کر دیا، مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ یہ فیصلہ دباؤ کے تحت کیا گیا تھا اور کشمیری عوام کی امنگوں کی ترجمانی نہیں کرتا تھا۔
یہ واقعہ پہلی پاک۔بھارت جنگ کا سبب بنا جس کے نتیجے میں کشمیر خطہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے ذریعے تقسیم ہو گیا ایک ایسی لکیر جو آج بھی خاندانوں اور برادریوں کو جدا کرتی ہے۔پورے پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) میں یہ دن ریلیوں، سیمینارز، واکس اور فوٹو نمائشوں کے ذریعے منایا جاتا ہےجن کا مقصد کشمیری عوام کی مشکلات کو اجاگر کرنا اور ان کی جدوجہد سے اظہارِ یکجہتی کرنا ہوتا ہے۔شرکاء سیاہ پٹیاں باندھتے ہیں سیاہ جھنڈے لہراتے ہیں اور عوامی اجتماعات منعقد کرتے ہیں تاکہ بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قبضے اور انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی مذمت کی جا سکے۔
کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر حکومتِ پاکستان کی ہدایت پر پورے ملک میں صبح 10بجے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران بین الاقوامی انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں نے جبری گمشدگیوں، کرفیو، رابطوں کی بندش اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں نقل و حرکت پر پابندیوں جیسے مسائل کی جانب توجہ دلائی ۔اگست 2019 میں بھارتی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد مبصرین کا کہنا ہے کہ صورتِ حال مزید خراب ہوئی ہے اور شہری آزادیوں اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں بڑھ گئی ہیں۔پاکستان مسلسل اس مؤقف پر قائم ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔
آج کے دن پاکستان ایک بار پھر کشمیری عوام کے ساتھ اپنی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت کا اعادہ کرتا ہے تاکہ وہ اپنے حقِ خودارادیت کے جائز مطالبے کو حاصل کر سکیں۔قومی قیادت اپنے پیغامات میں جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ پاکستان کے غیر متزلزل عزم اور یکجہتی کو دہراتی ہے اور بین الاقوامی برادری پر زور دیتی ہے کہ وہ اس دیرینہ تنازعے پر توجہ دے جو علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے۔
یومِ سیاہِ کشمیر منانے کا مقصد نہ صرف 27 اکتوبر 1947 کے واقعات کے خلاف احتجاج کرنا ہے بلکہ یہ انصاف، امن اور مکالمے کی پکار بھی ہے۔کشمیر دنیا کے سب سے زیادہ فوجی اعتبار سے گھیرے گئے علاقوں میں سے ایک ہے اور ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک جموں و کشمیر کے تنازعے کا منصفانہ اور پائیدار حل تلاش نہیں کیا جاتا۔دنیا بھر میں جب ایک اور "یومِ سیاہ کشمیر” منایا جا رہا ہےتو پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) بھر سے آوازیں ایک بار پھر بلند ہو رہی ہیں کہ عالمی برادری کشمیری عوام سے کئے گئے اپنے وعدے پورے کرے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔آل پارٹیز حریت کانفرنس (اے پی ایچ سی) کے سینئر رہنما اور سابق سیکرٹری اطلاعات امتیاز وانی نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کا طویل فوجی قبضہ خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ 27 اکتوبر 1947 کو بھارت کی جانب سے کشمیر پر فوجی چڑھائی ایک کھلی جارحیت تھی جس کی نہ کوئی قانونی اور نہ ہی اخلاقی بنیاد تھی۔امتیاز وانی نے اس حملے کو کشمیری عوام کے سیاسی اور جمہوری حقوق پر ایک سفاکانہ حملہ قرار دیا اور کہا کہ اس بدنصیب دن نام نہاد جمہوری ملک نے بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیری عوام کے بنیادی حقوق چھین لیے۔کشمیر پر بھارتی قبضے کے خلاف کشمیریوں کی تاریخی جدوجہد کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارتی ظلم و جبر کا نشانہ بننے کے باوجود بہادر کشمیری عوام نے کبھی بھی بھارتی تسلط کو تسلیم نہیں کیا۔ امتیازوانی نے کہا کہ کشمیریوں نے ماضی میں بھارتی ریاست کی بالادستی کو قبول نہیں کیا تھا اور نہ ہی آئندہ کبھی کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ وہ دن دور نہیں جب کشمیریوں کی جدوجہد اور ان کی عظیم قربانیاں اپنے مقدس مقصد میں کامیابی تک پہنچیں گی۔مودی حکومت کی جانب سے 5 اگست 2019 سے کشمیر میں کیے گئے غیر قانونی اقدامات کے بارے میں امتیاز وانی نے کہا کہ کشمیری عوام نے ان اقدامات کو پوری طرح مسترد کر دیا ہے اور بی جے پی جس چیز کو بین الاقوامی برادری کو دھوکہ دینے کے لیے مسلسل پیش کر رہی ہے اس کے لیے کشمیر میں کوئی تائید موجود نہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارتی پارلیمنٹ کی جانب سے بنائے گئے کسی بھی قانون کو اقوام متحدہ کی ان قراردادوں پر فوقیت حاصل نہیں ہو سکتی جن میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ کوئی ملک جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت کو یکطرفہ طور پر تبدیل نہیں کر سکتا۔انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کے طویل فوجی قبضے کے خاتمے میں فعال کردار ادا کرے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کو بھارت کے 78 سالہ غیر قانونی قبضے کے تباہ کن اثرات کا ادراک کرنا چاہیے جو کشمیر پر پڑ رہے ہیں۔سید گلشن احمد جو آل پارٹیز حریت کانفرنس کے رکن اور تحریکِ استقامت جموں و کشمیر کے نائب چیئرمین ہیں نے کہا کہ 27 اکتوبر 1947 کو کشمیری عوام کی طویل قربانیوں، خواہشات، احساسات اور سیاسی امنگوں کو بالکل نظر انداز کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ بے گناہ لوگوں پر مظالم ڈھائے گئے اور کشمیریوں کو ان کے بنیادی انسانی حقوق سے مکمل طور پر محروم کر دیا گیا۔
یہی وجہ ہے کہ کشمیری عوام 27 اکتوبر کو یومِ سیاہ کے طور پر مناتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 27 اکتوبر 1947 سے ریاست کے عوام بھارتی ظلم و ستم کے خلاف بہادری سے لڑ رہے ہیں اور گزشتہ آٹھ دہائیوں سے زبردستی کے قبضے کے خلاف اپنی آزادی کی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم حکومتِ پاکستان اور مسلح افواج کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے کشمیری عوام کی تکالیف کو سیاسی، سفارتی اور اخلاقی سطح پر پوری دنیا کے سامنے اجاگر کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جلد ہی ان شاء اللہ کشمیری قوم اپنی جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچانے میں کامیاب ہوگی۔







