کشمیری عوام نے اپنے حقِ خود ارادیت کیلئے دہائیوں سے بے مثال قربانیاں دی ہیں، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان

اسلام آباد۔26اکتوبر (اے پی پی):ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان نے کہا ہے کہ 27 اکتوبر 1947ء تاریخ کا وہ سیاہ دن ہے جب بھارت نے جموں و کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر کے بین الاقوامی قوانین، اخلاقی اصولوں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کی۔یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں انہوں نے کہا کہ بھارتی افواج کا سری نگر میں داخلہ اور غیر قانونی قبضہ …

اسلام آباد۔26اکتوبر (اے پی پی):ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان نے کہا ہے کہ 27 اکتوبر 1947ء تاریخ کا وہ سیاہ دن ہے جب بھارت نے جموں و کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر کے بین الاقوامی قوانین، اخلاقی اصولوں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کی۔یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں انہوں نے کہا کہ بھارتی افواج کا سری نگر میں داخلہ اور غیر قانونی قبضہ کشمیری عوام کی خواہشات کے منافی اور ظلم و جبر کی ایک ایسی داستان کا آغاز تھا جسے تاریخ کبھی نہیں بھلا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام نے اپنے حقِ خود ارادیت کے لیے دہائیوں سے بے مثال قربانیاں پیش کی ہیں، مگر بھارتی جبر و استبداد کے باوجود ان کا حوصلہ کم نہیں ہوا۔

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ 5 اگست 2019ء کو بھارت کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35-اے کی تنسیخ کشمیریوں کی شناخت اور خودمختاری چھیننے کی ایک مذموم کوشش تھی، جو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کی غیر متزلزل حمایت کرتا ہے اور یہ حمایت ہر سطح پر جاری رہے گی۔ انہوں نے کشمیری شہداء اور رہنماؤں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔

سیدال خان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر تقسیمِ ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے اور جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے اس کا منصفانہ حل ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری فلسطین، غزہ اور مقبوضہ جموں و کشمیر جیسے دیرینہ تنازعات کے حل کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔انہوں نے اپنے پیغام کے اختتام پر کہا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے حل تک کشمیری عوام کے ساتھ کھڑا رہے گا اور ان کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔