پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں مغربی ہواؤں کے زیر اثر معمول کے مطابق بارشوں کا امکان ہے ، این ڈی ایم اے

اسلام آباد۔30اکتوبر (اے پی پی):نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(این ڈی ایم اے )نے کہا ہےکہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں مغربی ہواؤں کے زیر اثر معمول کے مطابق بارشوں کا امکان ہے جبکہ جنوبی اور مغربی علاقوں،بلخصوص بلوچستان اور سندھ میں معمول سے کم بارشیں خشک سالی جیسی صورتحال کا باعث بنیں گی، نومبر کے آخر میں سائبیریا کی طرف سے آنے والی ہوائیں پاکستان کے شمالی اور وسطی علاقوں …

اسلام آباد۔30اکتوبر (اے پی پی):نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(این ڈی ایم اے )نے کہا ہےکہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں مغربی ہواؤں کے زیر اثر معمول کے مطابق بارشوں کا امکان ہے جبکہ جنوبی اور مغربی علاقوں،بلخصوص بلوچستان اور سندھ میں معمول سے کم بارشیں خشک سالی جیسی صورتحال کا باعث بنیں گی، نومبر کے آخر میں سائبیریا کی طرف سے آنے والی ہوائیں پاکستان کے شمالی اور وسطی علاقوں میں سردی کی شدت میں اضافے کا باعث بنیں گی، میدانی اور جنوبی علاقوں میں درجہ حرارت معمول کے مطابق رہے گا جبکہ دسمبر کے مہینے میں شمالی علاقے شدید سرد ی کی لپیٹ میں ہوں گے۔

جمعرات کو صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے این ڈی ایم اے حکام نے کہا کہ اس سال موسم سرما کے دوران بلخصوص گلگت بلتستان، چترال اور بالائی خیبر پختونخوا میں برفباری معمول سے نسبتاً کم رہنے کا امکان ہے۔اکتوبر میں ہلکی ابتدائی برفباری کا امکان موجود ہے البتہ نومبر کے وسط سے دسمبر تک زیادہ تواتر کے ساتھ برفباری متوقع ہے۔ حالیہ برس معمول سے کم برفبای ممکنہ طور پر گلیشئرز کی صحت کو بھی متاثر کرے گی جو بعد ازاں 2026 کے موسم گرما کے دوران میں پانی کی دستیابی کومتاثر کر سکتی ہے.تاہم مون سون 2025 میں ہونے والی مناسب بارشوں اور ڈیموں میں ذخیرہ شدہ پانی کے باعث کسی بڑے آبی بحران کا خطرہ نہیں ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ شمالی علاقو ں بلخصوص کوہستان، مانسہرہ، سوات، دیامر، استور، نگر اور نیلم ویلی کے پہاڑ ی علاقوں میں ممکنہ طور پر لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات پیش آ سکتے ہیں۔مون سون 2025کے دوران ہونے والی زیادہ بارشیں اور موسم سرما میں متوقع برفباری، یہ دونوں عوامل مشترکہ طور پر پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات کو بڑھا سکتے ہیں۔قراقرم ہائی وے اور نیلم ویلی روڈ جیسی شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہونے کا امکان ہے۔این ڈی ایم اے علاقائی سطح پر عوامی تحفظ اور سفری سرگرمیوں کو محفوظ بنانے کے لیے مسلسل نگرانی کے ساتھ ساتھ بروقت الرٹس اور آگاہی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے جنوبی علاقوں بلخصوص جنوب مغربی بلوچستان اور سندھ کے بعض علاقوں میں موسم خشک رہنے اور زیر زمین پانی کے لیول میں کمی کے باعث زرعی سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں جس کے نتیجے میں ممکنہ طور پر خشک سالی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑھ سکتا ہے۔ چاغی، نوشکی، پنجگور اور گوادر جیسے اضلاع کو خشک سالی کے لیے حساس علاقے قرار دیا گیا ہے۔جبکہ شمالی علاقوں میں زرعی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔زیر زمین پانی کو ضائع ہونے سے بچا کر اور موئثر انداز میں استعمال کر کے ہم اپنی زراعت کو متاثر ہونے سے بچا سکتے ہیں۔

بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس سال کے آخر میں سب سے بڑا خطرہ جو نظر آرہا ہے وہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں بڑھتی ہوئی سموگ ہے۔اکتوبر سے دسمبر کے دوران پنجاب کا صنعتی و زرعی علاقہ، بشمول لاہور، فیصل آباد، شیخوپورہ، گوجرانوالہ اور ملتان،شدید سموگ کی لپیٹ میں رہے گا جہاں ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 400 سے تجاوز کر سکتا ہے جو کہ انتہائی خطرناک سطح ہے۔ن

ومبر اور دسمبر کے مہینوں کے دوران درجہ حرارت اور ہواؤں میں کمی کے ساتھ ساتھ ہوا میں نمی کے تناسب کے باعث سموگ کی شدت میں شدید اضافے کا امکان ہے۔خیبر پختونخوا ہ میں بھی پشاور اور ملحقہ علاقوں سموگ کی شدت متوقع ہے۔تمام متعلقہ ادارے سموگ پر قابوپانے کے لیے ضروری اقدامات یقینی بنا رہے ہیں۔ فصلوں کی باقیات، کوڑا کرکٹ جلانے پر پابندی کو سختی سے نافذ کرنے کی ہدایات جاری کی جا چکی ہیں تا کہ سموگ کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے اور سفری سرگرمیوں کو جاری رکھا جا سکے۔

مزید خبریں