اسلام آباد۔30اکتوبر (اے پی پی):انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب "پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے غیر قانونی کاروبار کا چیلنج" میں ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ غیر قانونی تجارت نہ صرف معیشت بلکہ قومی سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرہ بن چکی ہے جس کے تدارک کے لیے مربوط اور ٹھوس اقدامات کی فوری ضرورت ہے۔جمعرات کوتقریب سے خطاب کرتے ہوئےوفاقی وزیر …
ماہرین کا غیر قانونی تجارت کے خاتمے اور معاشی استحکام کے لیے مشترکہ اقدامات پر زور

مزید خبریں
اسلام آباد۔30اکتوبر (اے پی پی):انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب "پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے غیر قانونی کاروبار کا چیلنج” میں ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ غیر قانونی تجارت نہ صرف معیشت بلکہ قومی سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرہ بن چکی ہے جس کے تدارک کے لیے مربوط اور ٹھوس اقدامات کی فوری ضرورت ہے۔جمعرات کوتقریب سے خطاب کرتے ہوئےوفاقی وزیر اور چیئرمین بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر شیخ نے کہا کہ پاکستان نے اپنے ابتدائی برسوں میں حقیقت پسندانہ معاشی پالیسیاں اپنائیں جن سے آج بھی سیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے چین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اقتصادی استحکام اور نظم و ضبط کے ذریعے ترقی ممکن ہے۔
وزیر نے زور دیا کہ ایسے افراد کو آگے لایا جائے جن میں حقیقی کاروباری صلاحیت ہو، تاکہ ملک کے پوشیدہ معاشی امکانات کو بروئے کار لایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی مالیاتی نیٹ ورکس کو توڑنے کے لیے ’’غیر قانونی دولت کی نشاندہی‘‘ پر توجہ دینا زیادہ موثر حکمت عملی ہے بانسبت صرف ضبطی کے اقدامات کے۔صدر آئی آر ایس سفیر جوہر سلیم نے کہا کہ غیر قانونی کاروبار، سمگلنگ اور جعلی مصنوعات کی معیشت ریاستی وسائل کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے اور مارکیٹ کے توازن کو بگاڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جغرافیائی قربت منشیات کی بین الاقوامی راہداریوں سے، غیر محفوظ سرحدیں اور کمزور نفاذی نظام اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔وزیر خزانہ و محصولات کے مشیر عدنان پاشا نے کہا کہ جعلی تجارت ایک عالمی خطرہ ہے جو پاکستان کی معیشت اور سلامتی دونوں کو متاثر کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی مالی معاونت، منشیات اور غیر قانونی رقوم کے بہاؤ پر قابو پائے بغیر مالیاتی خسارے پر قابو پانا ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا استعمال غیر قانونی سرگرمیوں کی نشاندہی میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے مرکزی بینک اور ریونیو اداروں کے درمیان قریبی تعاون کی ضرورت پر زور دیا تاکہ موجودہ خلا کو پر کیا جا سکے۔سینٹر فار سوشل ایجوکیشن اینڈ ڈیولپمنٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مبشر اکرم نے کہا کہ خاص طور پر تمباکو کے شعبے میں ٹیکس چوری غیر قانونی تجارت کو فروغ دے رہی ہے اور قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا رہی ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ اگر اس شعبے سے ٹیکس وصولی موثر بنائی جائے تو عوامی ترقیاتی منصوبوں میں انقلاب آ سکتا ہے۔
انہوں نے ایک جامع ایکشن پلان پیش کیا جس میں اینٹی الیگل ٹریڈ کوآرڈینیشن سیل کے قیام، حکومت، میڈیا اور نجی شعبے کے درمیان شراکت داری، ’’ٹریس اینڈ ٹریک‘‘ نظام کے نفاذ، مالی شفافیت کے فروغ، اور ’’منصفانہ تجارت‘‘ سے متعلق قومی آگاہی مہم کے آغاز کی سفارش شامل تھی۔پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف مارکیٹ اکانومی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر علی سلمان نے کہا کہ پاکستان کی غیر رسمی معیشت قومی پیداوار کا بڑا حصہ ہے جس سے ٹیکس کی مد میں کھربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ نقصانات پورے کر لیے جائیں تو ان سے بڑے ڈیم، سینکڑوں ہسپتال، سکول، شمسی توانائی کے منصوبے اور یونیورسٹیاں تعمیر کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی تجارت کے خاتمے کے لیے حکومت کے تمام اداروں کو مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی اور پالیسی کے تسلسل کو یقینی بنانا ہوگا۔روزنامہ دی نیوز کے سینئر صحافی مہتاب حیدر نے کہا کہ پاکستان کی معاشی کمزوریاں اب قومی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ بن چکی ہیں۔ محصولات اور اخراجات کے درمیان بڑھتا ہوا فرق قرضوں کے حجم میں مسلسل اضافے کا سبب بن رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوامی قرضہ اور مالی ذمہ داریاں پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہیں، لہٰذا قرض کی ادائیگی کی صلاحیت کا حقیقت پسندانہ تجزیہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے ٹیکس کے نظام میں شفافیت، سول سروس اصلاحات اور بہتر طرز حکمرانی پر زور دیا۔







