پوری قوم اور پارلیمنٹ اپنے کشمیری بھائیوں کی طرف سے پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر اظہار یکجہتی پر انتہائی شکرگزار ہیں:مولانا فضل الرحمن اسلام آباد ۔ 16 اگست (اے پی پی) چیئرمین کشمیر کمیٹی مولانا فضل الرحمن نے پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں بسنے والے کشمیریوں کی طرف سے پاکستان کے ساتھ مکمل وابستگی و یکجہتی کا بھرپو رمظاہرہ کرنے پر آل پارٹی …
پوری قوم اور پارلیمنٹ اپنے کشمیری بھائیوں کی طرف سے پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر اظہار یکجہتی پر انتہائی شکرگزار ہیں:مولانا فضل الرحمن

مزید خبریں
پوری قوم اور پارلیمنٹ اپنے کشمیری بھائیوں کی طرف سے پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر اظہار یکجہتی پر انتہائی شکرگزار ہیں:مولانا فضل الرحمن
اسلام آباد ۔ 16 اگست (اے پی پی) چیئرمین کشمیر کمیٹی مولانا فضل الرحمن نے پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں بسنے والے کشمیریوں کی طرف سے پاکستان کے ساتھ مکمل وابستگی و یکجہتی کا بھرپو رمظاہرہ کرنے پر آل پارٹی حریت کانفرنس کے تمام لیڈروں اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی افواج کے غیر انسانی سلوک اور ظلم و استبداد کے باوجود اپنے بنیادی حق کے خاطر پورے استقلال کے ساتھ جدوجہد آزادی کو جاری رکھتے ہوئے لازوال قربانیاں پیش کی ہیں جن کی تاریخ میں بہت کم نظیر ملتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یوم سیاہ کے حوالے سے بھی کشمیری قوم کی طرف سے بھارتی غاصبانہ قبضے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل پر زور دیا۔ چیئرمین نے بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ کشمیر کے متعلق زمینی حقائق سے نظریں نہ چرائے بلکہ ان کا سامنا کرتے ہوئے تنازعہ کشمیر کے مستقل و پائیدار حل کے لیے پاکستان کے ساتھ معنی خیز مذاکرات کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب پوری دنیا بھارتی چال بازیوں کو مکمل طور پر جان چکی ہے کہ بھارت کی ہمیشہ سے منفی سوچ رہی ہے کہ تنازعہ کشمیر کو طوالت دیکر ایسے حالات پیدا کیے جائیں کہ اول تو پاکستان کشمیر کو بھول جائے یا مقبوضہ کشمیر کی ڈیموگریفی کو بدل دیا جائے تاکہ اگر حالات موافق ہوجائیں تو استصواب رائے کرواکر اپنے حق میں فیصلہ لے لیا جائے لیکن ہم سلام پیش کرتے ہیں ان جان فروش کشمیری شہیدوں کو جن کی گراں قدر قربانیوں کے باعث جدوجہد کشمیر ایک ایسے موڑ پر پہنچ گئی ہے کہ اگر بھارتی سیاسی قیادت کی طرف سے حقیقت پر مبنی فیصلے نہ کیے گئے تو کشمیری نوجوان مزید غیر یقینی کی کیفیت میں زندگی گزارنے کی بجائے کوئی بھی انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہونگے۔








