علامہ محمد اقبالؒ کی فلسفیانہ بصیرت اور شاعرانہ ذہانت دنیا بھر کی نسلوں کو آج بھی متاثر کر رہی ہے

پشاور۔ 09 نومبر (اے پی پی):دنیا میں تعلیم، سیاست، معیشت اور معاشرت میں تیزی سے عالمی سطح پر تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور ایسے دور میں عظیم رہنماؤں کا وژن ترقی اور خوشحالی کےلیے جستجو میں لگی قوموں کے لیے رہنما کا کام کرتا ہے، ان عظیم رہنماؤں میں علامہ محمد اقبالؒ بھی شامل ہیں جن کی فلسفیانہ بصیرت اور شاعرانہ ذہانت دنیا بھر کی نسلوں کو آج بھی …

پشاور۔ 09 نومبر (اے پی پی):دنیا میں تعلیم، سیاست، معیشت اور معاشرت میں تیزی سے عالمی سطح پر تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور ایسے دور میں عظیم رہنماؤں کا وژن ترقی اور خوشحالی کےلیے جستجو میں لگی قوموں کے لیے رہنما کا کام کرتا ہے، ان عظیم رہنماؤں میں علامہ محمد اقبالؒ بھی شامل ہیں جن کی فلسفیانہ بصیرت اور شاعرانہ ذہانت دنیا بھر کی نسلوں کو آج بھی متاثر کر رہی ہے۔

شیخ نور محمد کے گھر سیالکوٹ میں 9 نومبر 1877 کو پیدا ہونے والے اقبال ایک شاعر، فلسفی اور وژنری کے طور پر اُبھرے جنہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن کا خواب دیکھا، ایک ایسا خواب جو پاکستان کی صورت میں شرمندہ تعبیر ہوا، ان کا نام، جس کا مطلب "خوش قسمتی” ہے، ان امیدوں اور حوصلے کی صحیح عکاسی کرتا ہے جو وہ اپنی قوم کےلیے لائے، ہر سال ان کا یومِ پیدائش ایک یاد دہانی کے طور پر منایا جاتا ہے تاکہ ان کی تعلیمات سے سیکھا جائے اور وقار اور خود انحصاری کی طرف ان کے نقشِ قدم پر چلا جائے۔

دنیا بھر میں "شاعرِ مشرق” کے طور پر عزت حاصل کرنے والے علامہ اقبالؒ کا اثر پاکستان کی سرحدوں سے کہیں زیادہ وسیع ہے، ان کے کاموں کا مطالعہ ایشیا، یورپ اور امریکہ کی یونیورسٹیوں میں "اقبالیات” کے شعبوں میں کیا جاتا ہے۔ اسلامیہ کالج پشاور کے پروفیسر ڈاکٹر یونس خان نے اتوار کو اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اقبالؒ کی شاعری سرحدوں سے ماورا ہے، جس نے انہیں ایشیا سے مشرق وسطیٰ اور یورپ سے امریکہ تک ایک قابل احترام شخصیت بنا دیا۔

انہوں نے کہا کہ برطانوی ہند میں مسلم نوجوانوں کو متاثر کرنے اور بیدار کرنے کی ان کی صلاحیت اورذہانت کا ثبوت ہے، جس کی وجہ سے انہیں شاعرِ مشرق کا خطاب ملا۔ ڈاکٹر یونس نے کہا کہ علامہ اقبالؒ نے عظیم ماہرِ تعلیم سر سید احمد خان کی شروع کردہ نشاۃ ثانیہ کی تحریک کو آگے بڑھایا جبکہ ان کے 1930 کے الہ آباد کے خطبے نے پاکستان کی تخلیق کی بنیاد رکھی اور ان کے اس تصور کو بعد میں بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے حقیقت کا روپ دیا۔

انہوں نے کہا کہ علامہ اقبالؒ نے نوآبادیاتی نظام کے خلاف مزاحمت کو جنم دیا، مسلمانوں کو پُرامن جدوجہد کے ذریعے اپنے حقوق اور شناخت کو دوبارہ حاصل کرنے کی ترغیب دی، اپنی شاعری میں ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ نے خود شناسی اور خود انحصاری کے اظہار کےلیے بھرپور علامتیں استعمال کیں جس میں خاص طور پر شاہین ، خودی اور انسان اور خدا کے درمیان روحانی تعلق شامل ہیں، اسرارِ خودی میں انہوں نے اپنی اندرونی طاقت کو دریافت کرنے، ذاتی صلاحیت پر یقین رکھنے اور دوسروں کے ساتھ ہم آہنگی سے رہنے پر زور دیا۔ پروفیسر ڈاکٹر یونس نے اقبالؒ کے شاہین کی پانچ کلیدی خصوصیات کو نمایاں کیا جیسے کہ دُور اندیشی، بے خوفی، آزادی، غور و فکر اور ثابت قدمی جو خود اختیاری اور سماجی ذمہ داری کے اقبالؒ کے پیغام کی عکاسی کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اقبال کی انگریزی، عربی، اردو اور فارسی ادب کے ساتھ ساتھ یونانی اور جرمن فلسفے تک رسائی نے ایک ایسے عالمی نقطہ نظر کو تشکیل دیا جو آج بھی انسانیت کی رہنمائی کرتا ہے 148 سال گزرنے کے بعد بھی ان کا پیغام مسلمانوں کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے جو ایک خوشحال مستقبل کی طرف امید اور سمت کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد یونس خان کے مطابق اقبالؒ کا فلسفہ سیاسی یا سماجی دائروں سے باہر تک پھیلا ہوا ہے، یہ گہرا انسان دوست اور مسئلہ حل کرنے والا ہے، جو امن، ہم آہنگی اور اسلامی اقدار کو مضبوط بنانے کی وکالت کرتا ہے۔ ڈاکٹر یونس نے کہا کہ اقبال کے فلسفے کا ایک بنیادی نکتہ افراد کو مثبت شہریوں میں تبدیل کرنا ہے، ان کا ماننا تھا کہ افراد کی اصلاح سے معاشرے کی اصلاح ہوتی ہے،

مثنوی رموزِ بے خودی سے حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اقبال نے یہ تعلیم دی کہ فرد اور قوم ایک دوسرے کا عکس ہیں، جیسے ایک دھاگا موتیوں کو جوڑ کر رکھتا ہے، اسی طرح ایک قوم اپنے شہریوں سے طاقت حاصل کرتی ہے اور افراد اپنی قوم کے ذریعے شناخت پاتے ہیں، اس کو سمجھ کر ہم اقربا پروری، بدعنوانی اور سماجی ناانصافی جیسے چیلنجز پر قابو پا سکتے ہیں۔ یونیورسٹی آف پشاور کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے معروف پروفیسر ڈاکٹر اعجاز خان نے اقبال کو تمام ادوار کا شاعر ، فلسفی اور وژنری رہنما قرار دیا جن کا الہ آباد کا خطبہ تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔

انہوں نے کہا کہ اقبال نے انصاف، ہم آہنگی اور مساوات پر مبنی ایک آفاقی معاشرے کا تصور دیا تھا، ان کے خیالات سرحدوں سے بالاتر ہیں جو ان کے فلسفے کو تمام اقوام کےلیے اہم بناتے ہیں۔ ان کی شاعری کو اس کی آفاقیت کی وجہ سے یونیورسٹیوں میں پڑھایا جاتا ہے۔ ڈاکٹر اعجاز نے کہا کہ مختلف اساطیر (میتھالوجیز) اور فلسفوں کا اقبال کا گہرا مطالعہ انہیں 20ویں صدی کے عظیم دانشوروں میں سے ایک کے طور پر ممتاز کرتا ہے۔ ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان کی کامیابی کا راستہ اقبالؒ کی تعلیمات کو اپنانے میں پوشیدہ ہے۔

ان کا ورثہ جو خود کی دریافت، اتحاد، اور انسانی وقار پر مرکوز ہے، آج کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے لازوال رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ قوم علامہ محمد اقبالؒ کے 148ویں یومِ پیدائش کو عقیدت اور فخر کے ساتھ منا رہی ہے، ماہرین ان کے فلسفے کو نوجوان نسلوں تک پہنچانے کی اہمیت پر زور دیتے ہیں تاکہ انہیں ایک مضبوط، زیادہ ترقی پسند اور خوشحال پاکستان کی تعمیر کے لیے تیار کیا جا سکے۔

مزید خبریں