کشمیری خود بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں، حزب المجاہدین کو دہشت گرد قرار دینے کے امریکی فیصلے پر مایوسی ہوئی پاکستان اور افغانستان نے سیاسی مشاورتی اجلاس میں دہشت گردی کے مشترکہ خطرات پر قابو پانے کیلئے ادارہ جاتی سطح پر تعاون پر اتفاق کیا ہے، ترجمان دفتر خارجہ اسلام آباد ۔ 17 اگست (اے پی پی) پاکستان نے کہا ہے کہ کشمیری خود بھارت کی ریاستی …
کشمیری خود بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں، حزب المجاہدین کو دہشت گرد قرار دینے کے امریکی فیصلے پر مایوسی ہوئی ، ترجمان دفتر خارجہ

مزید خبریں
کشمیری خود بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں، حزب المجاہدین کو دہشت گرد قرار دینے کے امریکی فیصلے پر مایوسی ہوئی
پاکستان اور افغانستان نے سیاسی مشاورتی اجلاس میں دہشت گردی کے مشترکہ خطرات پر قابو پانے کیلئے ادارہ جاتی سطح پر تعاون پر اتفاق کیا ہے، ترجمان دفتر خارجہ
اسلام آباد ۔ 17 اگست (اے پی پی) پاکستان نے کہا ہے کہ کشمیری خود بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیںحزب المجاہدین کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے امریکی فیصلے پر مایوسی ہوئی ہے،تنظیم کودہشت گرد قرار دینا بلا جواز ہے،کشمیری عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے حق خود ارادیت کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں ۔پاکستان بھارت ہمسایہ ملک ہیں دونوں کو خطے کی سلامتی و استحکام کیلئے باہمی تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا ہوگا۔کوئٹہ دھماکے میں بھارت کے ملوث ہونے کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران دفتر خارجہ کے ترجمان محمد نفیس زکریا نے کہا کہ حزب المجاہدین کو دہشت گرد قرار دینے کے امریکی فیصلے پر مایوسی ہوئی ہے،مقبوضہ کشمیر کے عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے بھارتی فورسز کے مظالم اور جبر کا شکار ہیں،کشمیری اپنے حق خود ارادیت کے حصول کیلئے جائز جدوجہد کررہے ہیں جبکہ کشمیری خود بھارتی ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں۔اس کے برعکس انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں اور بیگناہ کشمیریوں کو مظالم اور بربریت کا نشانہ بنانے پر بھارت کو دہشت گرد قرار دینا چاہیئے۔ترجمان نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی وزیراعظم کا بیان پاکستانی موقف کی تائید ہے۔پاکستان پہلے سے کہتا رہا ہے کہ ہمسایہ ملکوں کو خطے میں امن و استحکام کیلئے کشمیر سمیت باہمی تنازعات مزاکرات کے ذریعے حل کرنا ہوںگے۔انہوں نے کہا کہ مسلہ کشمیر دونوں ملکوں کے مابین بنیادی تنازعہ ہے۔








