سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کا غیر ملکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو

اسلام آباد ۔ 17 اگست (اے پی پی) سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ وہ اداروں کے مابین ٹکراو کے حق میں نہیں ہیں کیوں کہ یہ قومی مفاد کے خلاف ہے ۔جمعرات کو غیر ملکی نشریاتی ادارے (بی بی سی )کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق وزیر اعظم نے ایک مرتبہ پھر اپنے اس عزم کو دہرایا کہ وہ عوام کے ووٹ کے تقدس کو …

اسلام آباد ۔ 17 اگست (اے پی پی) سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ وہ اداروں کے مابین ٹکراو کے حق میں نہیں ہیں کیوں کہ یہ قومی مفاد کے خلاف ہے ۔جمعرات کو غیر ملکی نشریاتی ادارے (بی بی سی )کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق وزیر اعظم نے ایک مرتبہ پھر اپنے اس عزم کو دہرایا کہ وہ عوام کے ووٹ کے تقدس کو مجروح نہیں ہونے دیں گے اور اس کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ اداروں کے مابین ٹکراو کے حق میں نہیں ہیں یہ سب کی ذمہ داری ہے کہ اس بچا جائے۔محمد نواز شریف نے کہا کہ یہ تاثر ٹھیک نہیں ہے کہ ان کی فوج کے تمام سربراہوں کے ساتھ مخالفت رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کچھ (جرنیلوں) کے ساتھ یقیناً بنی بھی ہے، اچھی بنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کبھی آئین سے انحراف نہیں کیا، جو قانون کہتا ہے اس کے مطابق چلا ہوں۔اگر کوئی قانون کی حکمرانی یا آئین پر یقین نہیں کرتا تو میں اس سے اتفاق نہیں کرتا۔انہوں نے کہا کہ جب پرویز مشرف نے مارشل لا لگایا تھاتو اس وقت جنرل پرویز مشرف اور ان کے کچھ ساتھی میرے خلاف تھے لیکن باقی فوج میرے خلاف نہیں تھی۔ باقی فوج کو تو پتہ ہی نہیں تھا کہ مارشل لا لگ چکا ہے۔ انہوں نے پاناما مقدمے کے حوالے سے کہا کہ چار مہینے تک یہ مقدمہ چلا، پھر جے آئی ٹی بنی، یہ جے آئی ٹی کس طرح بنی وہ ساری کہانی آپ کے سامنے ہے۔ انھوں نے کہا کہ جے آئی ٹی میں شامل لوگ ان کےکٹر اور بدترین مخالفین میں سے تھے۔ اس جے آئی ٹی کے سامنے ہمارا پورا خاندان پیش ہوا۔ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ چار سال ہوگئے ہماری حکومت قائم ہوئے اور واضح مینڈیٹ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی تیسرے نمبر پر تھی اور اس نے دھاندلی دھاندلی کی رٹ شروع کر دی جس میں طاہرالقادری بھی شامل ہوگئے۔انھوں نے کہا کہ دھرنوں سے ترقی کا پہیہ تقریبا جام ہوگیا اور دھرنے والے وزیراعظم ہاوس، پارلیمان کے دروازے اور دیگر اداروں کے سامنے پہنچ گئے تھے اور کہتے تھے کہ ہم وزیراعظم کو گلے میں رسہ ڈال کر وزیراعظم ہاوس سے باہر نکالیں گے۔

Leave a Reply