ڈیٹا فیسٹ 2025، پاکستان کی ترقی کے لیے ڈیٹا اور اے آئی کی اہمیت ، نوجوان قیادت، قومی وژن اور ڈیجیٹل مستقبل کی جانب ایک اہم پیش رفت

اسلام آباد۔13نومبر (اے پی پی):پاک چائنا فرینڈشپ سینٹر اسلام آباد میں منعقد ہونے والی دو روزہ ڈیٹا فیسٹ 2025 کی اختتامی تقریب کا انعقاد ڈیٹا پر مبنی جدت، عوامی شمولیت اور نوجوانوں کی بھرپور شرکت کے ساتھ ہوا۔ ایونٹ میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے شرکاء نے شرکت کی، جنہوں نے نمائشوں اور اسٹالز میں پیش کیے گئے ڈیٹا پر مبنی حل، لائیو ڈیش بورڈز اور تخلیقی منصوبوں کا …

اسلام آباد۔13نومبر (اے پی پی):پاک چائنا فرینڈشپ سینٹر اسلام آباد میں منعقد ہونے والی دو روزہ ڈیٹا فیسٹ 2025 کی اختتامی تقریب کا انعقاد ڈیٹا پر مبنی جدت، عوامی شمولیت اور نوجوانوں کی بھرپور شرکت کے ساتھ ہوا۔ ایونٹ میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے شرکاء نے شرکت کی، جنہوں نے نمائشوں اور اسٹالز میں پیش کیے گئے ڈیٹا پر مبنی حل، لائیو ڈیش بورڈز اور تخلیقی منصوبوں کا مشاہدہ کیا۔اس موقع پر شرکاء کو جدید ڈیٹا ٹیکنالوجیز اور پالیسی سازی کے ٹولز کو سمجھنے اور آزمانے کا عملی موقع فراہم کیا گیا۔

تقریب میں مصنوعی ذہانت (اے آئی ) سے چلنے والے ڈیٹا پروڈکٹس کی لائیو ڈیمانسٹریشنز شامل تھیں، جنہوں نے ڈیٹا کے حصول، تجزیے اور ویژولائزیشن کے عمل کو زیادہ مؤثر اور قابلِ فہم بنایا۔ پریڈیکٹو ماڈلز اور اسمارٹ ڈیش بورڈز کے ذریعے شرکاء نے دیکھا کہ کس طرح اے آئی مختلف شعبوں میں شفافیت، کارکردگی اور جدت کو فروغ دے رہی ہے۔سیکرٹری برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات اویس منظور سمرہ نے ڈیٹا فیسٹ 2025 میں جدید ترین جی آئی ایس ڈیش بورڈ اور پاکستان اسپیشل اِن سائٹ ڈیش بورڈ کا افتتاح کیا ،جو ڈیٹا پر مبنی گورننس اور ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے میدان میں ایک نمایاں سنگِ میل ہے۔

انہوں نے مختلف اسٹالز اور ورکشاپ اسٹیشنز کا معائنہ کیا، جہاں انہوں نے ڈیٹا انوویٹرز اور اسٹیک ہولڈرز سے ملاقات کی۔ اویس منظور سمرہ نے ریئل ٹائم اینالیٹکس اور پرفارمنس مانیٹرنگ ٹولز کے انضمام کو سراہا اور کہا کہ اس طرح کے اقدامات شفاف، مؤثر اور اسمارٹ گورننس کی بنیاد رکھتے ہیں۔

تقریب میں پاکستان ادارہ شماریات (پی بی ایس ) نے اے جے کے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ، لاہور لیڈز یونیورسٹی، ایئر یونیورسٹی، نیشنل یونیورسٹی آف پاکستان، شہید بے نظیر بھٹو ویمن یونیورسٹی پشاور، المصطفیٰ ٹرسٹ ہسپتال، یونیورسٹی آف لورالائی، پنجاب کالج (اسلام آباد/راولپنڈی) اور ریڈیو پاکستان کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کیے۔

ان معاہدوں کا مقصد ڈیٹا شیئرنگ، پالیسی ریسرچ اور جدت کو فروغ دینا اور ایک مربوط، مضبوط ڈیٹا ایکو سسٹم کی تشکیل ہے۔ڈیٹا فیسٹ 2025 کے دوسرے دن متنوع اور معلوماتی پینل مباحثوں کا انعقاد کیا گیا جن کے موضوعات میں شامل تھے،روزگار کے مواقع کے لیے ڈیٹا سے شواہد تک کا سفر،پاکستان میں آفات کے خطرات کی تیاری اور انشورنس میکانزم کو مضبوط بنانا،پاکستان کے شماریاتی مستقبل کے لیے اے آئی اور بگ ڈیٹا کا انضمام ،زرعی ترقی ،ٹیکنالوجی، پالیسی اور جدت کے ذریعے پیداوار اور مسابقت میں اضافہ ہے ۔

ان مباحثوں میں سرکاری اداروں، تعلیمی شعبے، نجی تنظیموں اور ترقیاتی شراکت داروں کے نمائندوں نے حصہ لیا اور پائیدار ترقی کے لیے ڈیٹا پر مبنی عملی تجاویز پیش کیں۔اسی دوران منعقدہ انٹرایکٹو ورکشاپس میں شرکاء کو ڈیٹا ویژولائزیشن، مشین لرننگ، اور پالیسی اینالیٹکس کے عملی ہنر سکھائے گئے۔ایونٹ کے دوران انٹر یونیورسٹی کوئز اور پوسٹر مقابلے بھی ہوئے جن میں ملک بھر کی جامعات کے طلبہ نے اپنی علمی صلاحیت اور تخلیقی سوچ کا مظاہرہ کیا۔محمد سرور گوندل (ستارہ امتیاز)، ممبر (ایس ایس/آر ایم)، پی بی ایس نے کوئز مقابلے کا افتتاح کیا اور اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کی ترقی اور تبدیلی کی کنجی نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔

انہیں ڈیٹا کے تجزیاتی استعمال کے ذریعے ملکی ترقی میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ایئر یونیورسٹی اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے درمیان دلچسپ مقابلے کے بعد نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی نے کوئز مقابلہ جیت لیا۔اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف شماریات ڈاکٹر نعیم الظفر (ستارہ امتیاز) نے کہا کہ ڈیٹا فیسٹ 2025 ہمارے عزم کی عکاس ہے کہ پاکستان کے شماریاتی نظام کو جدید بنایا جائے اور ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی کو قومی پالیسیوں کا حصہ بنایا جائے۔انہوں نے جیتنے والوں اور شرکاء کو سرٹیفکیٹس اور شیلڈز پیش کیں۔

محمد سرور گوندل (ستارہ امتیاز) نے کہا کہ پی بی ایس کی ٹیم نے ایک بار پھر شفافیت، ڈیٹا خواندگی، اور شعبہ جاتی تعاون کے ذریعے ایک نیا معیار قائم کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پی بی ایس کی وژن اور انتھک کوششیں پاکستان کے لیے ڈیٹا پر مبنی شفاف اور پائیدار مستقبل کی راہ ہموار کر رہی ہیں۔ڈیٹا فیسٹ 2025 کے کامیاب انعقاد نے تعاون، تخلیقی صلاحیت اور ڈیجیٹل وژن کی ایک نئی روایت قائم کی۔

یہ ایونٹ اس بات کا مظہر ہے کہ جب ڈیٹا اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کو یکجا کیا جائے تو یہ قومی ترقی، بہتر گورننس اور عوامی خوشحالی کے نئے دروازے کھول سکتا ہے۔واقعی اعداد سے زندگیوں تک کا یہ سفر پاکستان کے روشن مستقبل کی سمت ایک مضبوط قدم ہے۔