بچوں کے تحفظ کے لیے سیاسی عزم، مضبوط ادارے اور مسلسل اقدامات ضروری ہیں، آصفہ بھٹو زرداری

بچوں کے تحفظ کے لیے سیاسی عزم، مضبوط ادارے اور مسلسل اقدامات ضروری ہیں، آصفہ بھٹو زرداری

اسلام آباد۔11ستمبر (اے پی پی):خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بچوں کے تحفظ کے لیے سیاسی عزم، مضبوط ادارے اور مسلسل اقدامات ضروری ہیں، حکومتی ادارے، صوبائی حکام،سکول، سول سوسائٹی، مذہبی و سماجی رہنما اورخاندان اپنے بچوں کا تحفظ ایک مشترکہ قومی ذمہ داری بنائیں۔

جمعہ کو ایوان صدر کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق آصفہ بھٹو زرداری نےبچوں کے تحفظ کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ ہر بچے کو گھر، سکول ، معاشرے میں اور اب بڑھتی ہوئی حد تک ڈیجیٹل کی دنیا میں بھی محفوظ ماحول میں پرورش پانے کا مکمل حق حاصل ہے، بچے کے خلاف تشدد، بدسلوکی، استحصال یا غفلت کو کبھی بھی نجی معاملہ، معاشرتی روایت یا کسی بدقسمت صورت حال کے طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، جب کسی بچے کو نقصان پہنچتا ہے تو معاشرہ اپنی بنیادی ذمہ داری، یعنی نگہداشت اور تحفظ کی ذمہ داری، پوری کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں بچے بدستور جسمانی اور جنسی تشدد، انسانی سمگلنگ، جبری مشقت، کم عمری کی شادی، استحصال اور آن لائن بدسلوکی کا سامنا کر رہے ہیں، اقوام متحدہ بارہا خبردار کر چکا ہے کہ بچوں کے خلاف تشدد وسیع پیمانے پر موجود ہے تاہم اسے روکا جا سکتا ہے، بچوں کے تحفظ کے لیے سیاسی عزم، مضبوط ادارے اور مسلسل اقدامات ضروری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں یہ ذمہ داری خاص طور پر فوری توجہ کی متقاضی ہے، بچوں کے آن لائن استحصال سے متعلق حالیہ شواہد ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ بچپن کو درپیش خطرات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں، ٹیکنالوجی کو بچوں کے لیے مواقع، تعلیم اور علم میں اضافہ کرنا چاہیے، اسے کبھی ایسا دروازہ نہیں بننا چاہیے جس کے ذریعے جرائم پیشہ عناصر اور شکاری ذہنیت رکھنے والے افراد بچوں کی زندگیوں تک رسائی حاصل کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ بچوں کا تحفظ کسی سانحے کے رونما ہونے کے بعد شروع نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے آغاز میں ہی روک تھام سے ہونا چاہیے، باخبر والدین، محفوظ سکولوں، تربیت یافتہ اساتذہ، فوری ردِعمل دینے والی پولیس اور سماجی خدمات، مضبوط حفاظتی نظام، ذمہ دار ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور ایسی کمیونٹیز سے جو کسی بچے کو خطرے میں دیکھ کر آواز اٹھانے کے لیے تیار ہوں اور جہاں کسی بچے کے خلاف جرم ہو چکا ہو، وہاں نہ خاموشی ہونی چاہیے، نہ بدنامی کا خوف اور نہ ہی مجرم کو تحفظ ملنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ خوف زدہ بچے کی بات سنی جانی چاہیے،متاثرہ بچے کو تحفظ دیا جانا چاہیے، زندہ بچ جانے والے متاثرہ فرد کے ساتھ عزت و وقار سے پیش آنا چاہیےاور مجرم کو قانون کا سامنا کرنا چاہیے۔آصفہ بھٹو نے کہا کہ بچوں کو کبھی یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ ہمارے تحفظ کے مستحق ہیں۔ ان کی کم عمری اور کمزوری ہم سب پر یہ ذمہ داری عائد کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرا پختہ یقین ہے کہ پاکستان کو بچوں کے تحفظ کے ایسے نظام کو مزید مضبوط بنانا چاہیے جس میں روک تھام، رپورٹنگ، تحقیقات، بحالی اور انصاف ایک دوسرے سے مربوط ہوں جہاں بچوں اور خاندانوں کو معلوم ہو کہ مدد کے لیے کہاں رجوع کرنا ہے؛ اور جہاں ادارے فوری، حساس اور موثر انداز میں کارروائی کریں اور متاثرین کو مزید ذہنی اذیت سے دوچار نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں خود بچوں کی بات بھی سننی ہوگی۔ ان کے خوف، تجربات اور آوازیں ان پالیسیوں کی تشکیل میں شامل ہونی چاہئیں جو ان کی زندگیوں پر اثرانداز ہوتی ہیں۔

بچپن کا تحفظ خیرات نہیں بلکہ حق، انصاف اور اس قوم کی شناخت کا معاملہ ہے جو ہم بننا چاہتے ہیں۔انہوں نے حکومتی اداروں، صوبائی حکام، قانون نافذ کرنے والے اداروں، سکولوں، سول سوسائٹی، مذہبی و سماجی رہنماؤں، میڈیا، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور سب سے بڑھ کر خاندانوں سے اپیل کی کہ ہم اپنے بچوں کا تحفظ ایک مشترکہ قومی ذمہ داری بنائیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مستقبل میں اس بچے کے تحفظ سے بڑھ کر کوئی مضبوط سرمایہ کاری نہیں ہو سکتی جو آنے والے کل میں اس ملک کا وارث بنے گا۔

آصفہ بھٹو نے کہا کہ ہمارے بچے اس وقت صرف ہماری ہمدردی کے مستحق نہیں جب انہیں نقصان پہنچ چکا ہو۔ وہ اس سے پہلے ہماری نگرانی اور چوکسی کے مستحق ہیں کہ نقصان ان تک نہ پہنچے، خطرے کی صورت میں ہماری حفاظت کے مستحق ہیں اور جب ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہو توانصاف کے مستحق ہیں۔یہی ہمارا پاکستان کے ہر بچے سے وعدہ ہونا چاہیے۔