حالیہ آٹھ آئینی ترامیم وقت کی ضرورت ہیں ،پارٹی کو اپنی پالیسی کی خلاف ورزی کرنے والے ممبر کے خلاف کارروائی کا حق حاصل ہے، قائد ایوان بالا

اسلام آباد۔13نومبر (اے پی پی):قائد ایوان بالا،نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نےکہا کہ وہ سینیٹر علی ظفر کا ذاتی طور پر بڑا احترام کرتے ہیں اور وہ ان کے والد کے ساتھ پارلیمنٹ میں طویل عرصہ کام کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹر علی ظفر یہ بھول گئے ہیں کہ جب عدم اعتماد کی تحریک پیش ہوئی تھی تو کس طرح چند منٹوں میں اسمبلی …

اسلام آباد۔13نومبر (اے پی پی):قائد ایوان بالا،نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نےکہا کہ وہ سینیٹر علی ظفر کا ذاتی طور پر بڑا احترام کرتے ہیں اور وہ ان کے والد کے ساتھ پارلیمنٹ میں طویل عرصہ کام کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹر علی ظفر یہ بھول گئے ہیں کہ جب عدم اعتماد کی تحریک پیش ہوئی تھی تو کس طرح چند منٹوں میں اسمبلی تحلیل کر دی گئی تھی۔

جمعرات کو سینیٹ اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ ستائیسویں آئینی ترمیم میں موجود خامیوں کو درست کرنے کا عمل درست سمت میں قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ آٹھ آئینی ترامیم وقت کی ضرورت ہیں تاکہ پارلیمانی نظام مزید مستحکم ہو اور آئین کی روح کے مطابق فیصلے ہوں۔انہوں نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب پنجاب حکومت گرانے کی بات آتی ہے تو عدالتوں کے فیصلے یاد نہیں رہتے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کمیٹی میں شامل نہ ہونے کی وجہ کسی "ریمورٹ کنٹرول” کی ہدایت تھی تو یہ پارلیمانی روایات کے خلاف ہے۔سینیٹر اسحاق ڈار نے آئین کے آرٹیکل 63 کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ازخود نافذ نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ممبر ضمیر کے مطابق ووٹ دیتا ہے تو اس کا ووٹ گنا جائے گا، تاہم اس کے بعد پارٹی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی پالیسی کی خلاف ورزی کرنے والے ممبر کے خلاف کارروائی کرے۔لیڈر آف دی ہاؤس نے واضح کیا کہ جب تک پارٹی نوٹس جاری نہیں کرتی اور شنوائی کا موقع نہیں دیتی، تب تک وہ ممبر اپنی حیثیت برقرار رکھتا ہے۔