وفاقی وزیرسینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک سے کینیڈا کے ہائی کمشنر برائے پاکستان طارق علی خان کی ملاقات

اسلام آباد۔13نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی سینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک سے کینیڈا کے ہائی کمشنر برائے پاکستان طارق علی خان نے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان اور کینیڈا کے درمیان جاری تعاون اور مستقبل کی شراکتی ترجیحات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ترجمان وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے مطابق ہائی کمشنر طارق علی خان نے خیبر پختونخوا کے علاقے وانا میں کیڈٹ کالج پر …

اسلام آباد۔13نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی سینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک سے کینیڈا کے ہائی کمشنر برائے پاکستان طارق علی خان نے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان اور کینیڈا کے درمیان جاری تعاون اور مستقبل کی شراکتی ترجیحات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترجمان وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے مطابق ہائی کمشنر طارق علی خان نے خیبر پختونخوا کے علاقے وانا میں کیڈٹ کالج پر حالیہ افسوسناک حملے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور خطے میں امن و استحکام کی خواہش کے عزم اعادہ کیا۔

ہائی کمشنر نے کینیڈین کینولا آئل کی درآمد کے عمل میں تعاون پر وفاقی وزیر کا شکریہ بھی ادا کیا۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے مختلف شعبہ جات، خصوصاً سماجی بہبود، ماحولیاتی طور پر موزوں زراعت اور پائیدار اقتصادی ترقی میں تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ہائی کمشنر نے وفاقی وزیر کو بتایا کہ کینیڈین کمرشل کمیشن پاکستان کو حکومتی سطح پر (جی ٹو جی) تعاون کے تحت کینیڈین اشیاء اور خدمات کی فراہمی میں معاونت فراہم کر سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کینیڈا ماحولیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ جدید زرعی ٹیکنالوجی کے فروغ پر کام کر رہا ہے اور اس سلسلے میں پاکستان کے ساتھ شراکت داری کا خواہاں ہے۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے عالمی ماحولیاتی مباحثے میں کینیڈا کے کردار کو سراہا اور کہا کہ توانائی کے شعبے میں کینیڈا کی متوازن پالیسی پاکستان کے لیے ایک اہم ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے۔ وفاقی وزیر نے ہائی کمشنر کو پاکستان میں گرین کلسٹرز کے قیام سے متعلق سرکاری منصوبے سے بھی آگاہ کیا، جس کا مقصد نوجوانوں کی جدت طرازی، گرین اسٹارٹ اپس، اور سبز معیشت کی ترقی کو فروغ دینا ہے۔

ملاقات میں دونوں فریقین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور کینیڈا باہمی تعاون، صاف توانائی کے فروغ، اور پائیدار ترقی کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے رابطوں کو مزید مضبوط بنائیں گے۔