ہراسانی نہ صرف فرد کے وقار کو پامال کرتی ہے بلکہ سماج میں خواتین کی تعلیم و پیشہ ورانہ ترقی پر بھی سنگین اثرات چھوڑتی ہے، سپریم کورٹ

اسلام آباد۔14نومبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیاہے کہ ہراسانی نہ صرف فرد کے وقار کو پامال کرتی ہے بلکہ سماج میں خواتین کی تعلیم و پیشہ ورانہ ترقی پر بھی سنگین اثرات چھوڑتی ہے۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے خواتین کو ہراسانی سے تحفظ دینے کے قانون کے دائرہ کار اور اس کے مؤثر نفاذ سے متعلق انتہائی اہم فیصلے میں محمد طاہر نامی انسٹرکٹر کی اپیل مسترد کرتے …

اسلام آباد۔14نومبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیاہے کہ ہراسانی نہ صرف فرد کے وقار کو پامال کرتی ہے بلکہ سماج میں خواتین کی تعلیم و پیشہ ورانہ ترقی پر بھی سنگین اثرات چھوڑتی ہے۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے خواتین کو ہراسانی سے تحفظ دینے کے قانون کے دائرہ کار اور اس کے مؤثر نفاذ سے متعلق انتہائی اہم فیصلے میں محمد طاہر نامی انسٹرکٹر کی اپیل مسترد کرتے ہوئے وفاق اور صوبوں کو وسیع پیمانے پر قانونی و انتظامی اصلاحات کی ہدایات جاری کر دیں۔

سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری فیصلے کے مطابق محمد طاہر پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں اسسٹنٹ کلینیکل انسٹرکٹر تھے، جن کے خلاف بی ایس سی نرسنگ کی طالبہ نے 2018 میں ہراسانی کی شکایت کی تھی۔ ابتدائی انکوائری کمیٹی نے انہیں بری کیاتاہم وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسانی نے کمیٹی کی تشکیل کو غیر موزوں قرار دیتے ہوئے دوبارہ انکوائری کی اور ایف آئی اے کی فارنزک رپورٹ سمیت شواہد کی بنیاد پر 2022 میں انہیں برطرفی اور 5 لاکھ روپے ہرجانے کی سزا دی۔

صدرِ پاکستان نے بھی اپیل خارج کی جب کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی فیصلے کو برقرار رکھا۔جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل بینچ نے قرار دیا کہ تمام فورمز کی متفقہ (concurrent) فائنڈنگز ٹھوس شواہد پر مبنی ہیں۔درخواست گزار کا "ڈبل جیوپارڈی” کا اعتراض (دو بار سزا نہیں ہو سکتی) غلط ہے، کیونکہ محکمانہ کارروائی فوجداری کارروائی نہیں ہوتی۔شکایت کی "فارم” سے زیادہ "مواد” اہم ہے، لہٰذا طالبہ کی متعدد تحریری درخواستیں قانون کے مطابق شکایت تصور ہوتی ہیں۔طالبات اور اساتذہ کے تعلق میں طاقت کا واضح فرق ہوتا ہے، اس لیے انسٹرکٹر پر اخلاقی و قانونی ذمہ داریاں زیادہ سخت ہیں۔

ہراسانی نہ صرف فرد کے وقار کو پامال کرتی ہے بلکہ سماج میں خواتین کی تعلیم و پیشہ ورانہ ترقی پر بھی سنگین اثرات چھوڑتی ہے۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ہراسانی کی دو بنیادی اقسام ہوتی ہیں: “کوئڈ پرو کو” (فیوور کے بدلے فائدہ) اور “ہوسٹائل ماحول” (غیر محفوظ و توہین آمیز ماحول)۔پاکستان میں خواتین بالخصوص زرعی شعبے میں غیر رسمی ماحول میں کام کرتی ہیں مگر موجودہ قانون ان جگہوں کو کُلیتاً کور نہیں کرتا۔آئین کے آرٹیکل 14، 25(2)، 34 اور 37(e) کے مطابق ریاست پر لازم ہے کہ ہر کارکن کو وقار، برابری اور تحفظ فراہم کرے۔

سپریم کورٹ نے وفاقی و صوبائی حکومتوں کو 6 ماہ کے اندرقانون میں ترمیم،’’ورک پلیس‘‘ کی تعریف میں کھیت، فارم، گھر، فیلڈ ٹریننگ اور تمام غیر رسمی مقامات شامل کرنے ۔’’ملازم‘‘ کی تعریف ہر ایسے شخص پر لاگو ہو جو کسی بھی شکل میں کام کرتا ہے، خواہ اسے اجرت ملے یا نہ ملے۔

ضلعی و تحصیلی ہراسانی پروٹیکشن سیلز کا قیام ، زرعی علاقوں میں موبائل کمپلینٹ یونٹس ، محکمہ محنت و زراعت کی مشترکہ نگرانی کا نظام ، طالبات کے لیے محفوظ ٹرانسپورٹ کا نظام، ڈرائیوروں کی رجسٹریشن شرط، تعلیمی اداروں میں ہراسانی کمپلینٹ سیلز کا قیام لازمی اور پولیس کی خصوصی ٹریننگ کی ہدایات دیں۔

سپریم کورٹ نے درخواست گزار کی اپیل یہ کہتے ہوئے خارج کر دی کہ کوئی قانونی سوالِ عامہ پیدا نہیں ہوتا،شواہد کی بنیاد پر تمام فورمز کے فیصلے درست ہیں اور خواتین کے تحفظ کے قانون کو عملی طور پر مؤثر بنانے کے لیے ریاستی اصلاحات ناگزیر ہیں۔

مزید خبریں