اسلام آباد۔14نومبر (اے پی پی):سٹیٹ بینک کے گورنرجمیل احمدنے کہاہے کہ جدت، شمولیت اور ذمہ داری کے ذریعے بینکاری نظام کی ناگزیرتبدیلی اس وقت تک ممکن نہیں ہوگی جب تک بینک اپنے کاروباری ماڈلز کو نجی شعبے، خاص طور پر ایس ایم ایز اور چھوٹے ڈپازٹرز کی مالی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دوبارہ ترتیب نہ دیں۔انہوں نے یہ بات جمعہ کوکراچی میں 10ویں پاکستان بینکاری ایوارڈزکی تقریب سے …
بینک اپنے کاروباری ماڈلز کو نجی شعبہ خاص طور پر ایس ایم ایز اور چھوٹے ڈپازٹرز کی مالی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دوبارہ ترتیب دیں، گورنرسٹیٹ بینک جمیل احمدکاایوارڈز تقریب سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔14نومبر (اے پی پی):سٹیٹ بینک کے گورنرجمیل احمدنے کہاہے کہ جدت، شمولیت اور ذمہ داری کے ذریعے بینکاری نظام کی ناگزیرتبدیلی اس وقت تک ممکن نہیں ہوگی جب تک بینک اپنے کاروباری ماڈلز کو نجی شعبے، خاص طور پر ایس ایم ایز اور چھوٹے ڈپازٹرز کی مالی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دوبارہ ترتیب نہ دیں۔انہوں نے یہ بات جمعہ کوکراچی میں 10ویں پاکستان بینکاری ایوارڈزکی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔تقریب میں بینکاری کے شعبے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے بینکوں کو سراہا گیا۔ گورنرسٹیٹ بینک نے بطور مہمان خصوصی تقریب میں شرکت کی اور میزان بینک کو بہترین بینک کے ایوارڈ سے نوازتے ہوئے اس کی شاندار کارکردگی اور عمدہ خدمات جاری رکھنے کے عزم کو سراہا۔ اپنے خطاب میں گورنر سٹیٹ بینک نے ملک میں بینکاری کے معیار کو بلند کرنے میں ان ایوارڈز کے اہم کردار کا مشاہدہ کیا۔
اس تناظر میں انہوں نے جدت، شمولیت اور ذمہ داری کے ذریعے بینکاری نظام کی ناگزیرتبدیلی کی غرض سے اگلی دہائی کے لیے ایک خاکہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تبدیلی اس وقت تک ممکن نہیں ہوگی جب تک بینک اپنے کاروباری ماڈلز کو نجی شعبے خاص طور پر ایس ایم ایز اور چھوٹے ڈپازٹرز کی مالی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دوبارہ ترتیب نہ دیں۔ گورنر سٹیٹ بینک نے کہا کہ ” حکومت کو قرض دے کر باآسانی حاصل ہونے والے نفع پر انحصار کرنے والے بینک ان بینکوں سے پیچھے رہ جائیں گے جو ڈپازٹس مجتمع کر رہے ہیں اور محروم طبقات کی بڑھتی ہوئی قرض کی ضروریات کو پورا کر رہے ہیں۔ گورنر سٹیٹ بینک نے چار اہم شعبوں پر بینکوں کو توجہ مرکوز کرنے کی ترغیب دلاتے ہوئے کہاکہ سب سے پہلے بینکوں کو اپنے صارفین کے روزمرہ کے ڈجیٹل تجربات اور اپنے کاروباری آپریشنز بشمول موبائل کامرس، زرعی سپلائی چینز، کریڈٹ سکورنگ، اور انتظام خطر میں ڈیجیٹا ئزیشن کو شامل کرنا چاہیے۔
دوسرا بینکوں کو مصنوعی ذہانت (اے آئی)اور مشین لرننگ ٹولز سے استفادہ کرنا چاہیے تاکہ مصنوعی ذہانت کی طرف سے فراہم کردہ متبادل معلومات کو استعمال کرتے ہوئے زیادہ محتاط رسک ماڈلز بنائے جاسکیں اور چھوٹی فرموں، سٹارٹ اپس اور انٹری پرینورز جنہیں روایتی دستاویزات کی کمی کا سامنا ہو،کے لیے تخصیصی مالی مصنوعات تشکیل دی جائیں۔ تیسرا قرضوں کے حوالے سے بینکوں کے فیصلوں میں ماحولیاتی خطرات کو ملحوظ رکھا جائے،پائیداری کے واضح اہداف مقرر کیے جائیں اور موسمیاتی فنانسنگ کے لیے گرین بانڈز اور پائیداری سے مشروط قرضہ جاتی مصنوعات تشکیل دی جائیں۔ آخر میں بینکوں کو اپنی ترجیحات کا از سر نو جائزہ لینا چاہیے اور پاکستان کے برآمد کنندگان کو بہتر سہولتوں کی فراہمی کے ساتھ انہیں مضبوط کرنے کے لیے اپنے کاروباری ماڈل کو حکمت عملی کے ساتھ تبدیل کرنا چاہیے۔
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بینکنگ اینڈ فنانس (نباف)پاکستان نے ڈان میڈیا اور اے ایف فرگوسن اینڈ کمپنی کے تعاون سے 10ویں پاکستان بینکنگ ایوارڈز کی تقریب کا اہتمام کیا۔ گورنر سٹیٹ بینک نے مالی شعبے میں مسلسل 10 سال سے بہترین کارکردگی، جدت طرازی اور دیانتداری کو فروغ دینے پر تینوں شراکت داروں اور پاکستان بینکنگ ایوارڈز کو سراہا۔ خواتین کی مالی شمولیت میں بہترین کارکردگی دکھانے پر بہترین بینک کا ایوارڈ بینک آف پنجاب کو، بہترین مائیکروفنانس ادارے کا ایوارڈ کشف فائونڈیشن کو، بہترین ایس ایم ایز بینک کا ایوارڈ بینک آف پنجاب کو جبکہ زراعت میں شمولیت کے حوالے سے بہترین بینک کا ایوارڈ بینک آف پنجاب کو دیاگیا، ڈیجیٹل میدان میں بہترین کارکردگی دکھانے پر بینک الفلاح کو، صارفین سے بہترین روابط کا ایوارڈ بینک الفلاح ،متوسط حجم کے بہترین بینک کا ایوارڈ فیصل بینک اور ای ایس جی کے اعتبار کے بہترین بینک کا ایوارڈ ایچ بی ایل کو دیا گیا۔








