اسرائیلی فوج نے فلسطینی قصبے دیر إستیا کے قریب زیتون کے کئی درخت اکھاڑ پھینکے

مقبوضہ بیت المقدس۔17نومبر (اے پی پی):اسرائیلی افواج نے وسطی مغربی کنارے کے صوبہ سلفیت کے قصبے دیر إستیا کے قریب زیتون کے کئی درخت اکھاڑ پھینکے۔ العربیہ کے مطابق سلفیت گورنری میں زرعی ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ ابراہیم حماد نے گزشتہ روز بتایا ہے کہ اسرائیلی افواج نے تین فلسطینی کسانوں کے ملکیتی زیتون کے تقریباً 135 درختوں کو اکھاڑ پھینکا جن میں سے ہر ایک سات سال سے زائد عرصہ …

مقبوضہ بیت المقدس۔17نومبر (اے پی پی):اسرائیلی افواج نے وسطی مغربی کنارے کے صوبہ سلفیت کے قصبے دیر إستیا کے قریب زیتون کے کئی درخت اکھاڑ پھینکے۔ العربیہ کے مطابق سلفیت گورنری میں زرعی ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ ابراہیم حماد نے گزشتہ روز بتایا ہے کہ اسرائیلی افواج نے تین فلسطینی کسانوں کے ملکیتی زیتون کے تقریباً 135 درختوں کو اکھاڑ پھینکا جن میں سے ہر ایک سات سال سے زائد عرصہ پرانا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ حملہ وادی قانا کے علاقے میں زرعی اراضی کے خلاف جاری خلاف ورزیوں کے سلسلے کا حصہ ہے۔

اکتوبر میں وال اینڈ سیٹلمنٹ ریزسٹنس کمیشن کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق مئی سے لے کر اب تک اسرائیلی افواج اور آبادکاروں نے فلسطینیوں، ان کی فصلوں اور املاک پر 2,350 حملے کئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج 1,584 حملوں کی ذمہ دار تھی جبکہ آبادکاروں نے 766 حملے کئے خصوصاً مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر راملہ اور البیرۃ (542)، نابلس (412) اور ہیبرون (401) میں۔ ان میں فلسطینیوں پر جسمانی حملے، درختوں کو اکھاڑ دینا، کھیتوں کو جلا دینا، زیتون چننے والوں کو روکنا، جائیدادوں پر قبضہ اور گھروں اور زرعی مقامات کی مسماری شامل تھا۔

ہزاروں فلسطینی خاندان جو اپنی روزی کے لئے زیتون کے درختوں کی کٹائی پر انحصار کرتے ہیں، وہ 2023 کے اواخر سے آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے حملوں، فوجیوں کی طرف سے اپنے کھیتوں میں داخلے پر پابندیوں اور زمینوں پر قبضے کا سامنا کر رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے اسرائیلی افواج نے شمالی مغربی کنارے کے شہر قلقیلیہ کے مشرقی حصے میں حفاظتی باڑ تعمیر کرنے کے لئے زیتون کے درختوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے اور زمین ضبط کر لینے کے 2 فوجی احکامات جاری کیے تھے۔

مزید خبریں